http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 04 June, 2007, 03:47 GMT 08:47 PST

معاشی ترقی کیساتھ ماحولیاتی تبدیلی

چین کا کہنا ہے کہ وہ معاشی ترقی کو برقرار رکھتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا چاہتا ہے جبکہ آسٹریلیا نےگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کا ہدف مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چین کی جانب سے اس بات کا اعلان ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پہلے قومی منصوبے میں کیا گیا ہے۔

منصوبے کی تفصیلات کے مطابق چین گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو ہوائی، جوہری اور پن بجلی کے زیادہ استعمال کی مدد سے کم کرے گا اور اس لے علاوہ کوئلے سے چلنے والے کارخانوں کو بھی بہتر بنایا جائےگا۔

یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چینی صدر ہوجن تاؤ جی ایٹ سربراہ اجلاس کے لیے جرمنی میں ہیں اور جہاں جرمن چانسلر نے ماحولیاتی تبدیلی پر اقوامِ متحدہ کے پروٹوکول کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر آسٹریلیا نے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں پر اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے ہوئے آلودگی میں کمی کے لیے کاربن ٹریڈنگ سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم جان ہارورڈ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کاربن اخراج پر پابندی لگانے سے ملک کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ آسٹریلیا کو حال ہی میں قحط کا سامنا کرنا پڑا تھا جس سے نہ صرف ملک کی معاشی ترقی متاثر ہوئی تھی بلکہ آسٹریلوی کسانوں میں بے چینی کی لہر بھی دوڑ گئی تھی۔

آسٹریلیا اور امریکہ وہ دو بڑے صنعتی ملک ہیں جنہوں نے گرین ہاؤس گیسوں کے حوالے سے 1997 کے کیوٹو معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔