Saturday, 12 May, 2007, 07:19 GMT 12:19 PST
گوگل کے ذریعے تلاش کی جانے والی دس ویب سائٹس میں سے ایک میں ایسا کوڈ ہوتا ہے جس سے لوگوں کے کمپیوٹر کو خطرہ ہو سکتا ہے۔اسے’ملیشیس کوڈ‘ کہتے ہیں
لاکھوں سائٹس کا سروے کرنے والی ایک کمپنی کے ماہرین کا کہنا ہے جن پیجز کا انہوں نے جائزہ لیا ان میں سے تقریباً ساڑھے چار لاکھ ایسی سائٹس کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے جس سے استعمال کرنے والے کے علم میں آئے بغیر کمپیوٹر کو نقصان پہنچانے والا ملیشس کوڈ انسٹال ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کمپنی نے انٹرنیٹ پران تمام ویب پیجز کی شناخت شروع کر دی ہے جن میں ملیشیس کوڈ پایا جاتا ہے۔
’ڈرائیو بائی ڈاؤن لوڈ‘ کمپیوٹر کو انفیکٹ کرنے یا حساس اطلاعات چرانے کا ایک عام طریقہ بنتا جا رہا ہے۔
گوگل ریسرچر نیل پرووز اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر صارفین کو ’مال وئیر‘ انسٹال کرنے پر اکسانے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں صارفین کو ایسے لنکس مہیا کرائے جاتے ہیں جن میں دلچسپ پیجز ،پورنو گرافک مواد اور کاپی رائٹ سافٹ وئیر تک رسائی کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
ان میں سے کچھ ملیشیس کوڈ مائکرو سافٹ کے انٹرنیٹ ایکسپلوررل براؤزر کی کمیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسٹال ہو جاتے ہیں۔
جبکہ کچھ ایسے ملیشس کوڈ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں جویا توغیر مطلوبہ ٹول بار انسٹال کر دیتے ہیں یا پھر براؤزر کے پہلے پیج کو ہی تبدیل کر دیتے ہیں۔
لیکن جرائم پیشہ افراد پاس ورڈ اور اہم اطلاعات کی چوری کے مقصد سے’ کی لاگ‘ انسٹال کرنے کے لیے’ ڈرائیو بائی‘ کا استعمال کرتے ہیں۔
اور کچھ ملیشیس کوڈ تو کمپیوٹر کو ہی ہائی جیک کر لیتے ہیں ۔
تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کوڈ ویب سائٹ کے ان حصوں میں ہوتا ہے جو ویب مالکان کے کنٹرول میں نہیں ہے جیسا کہ بینر ایڈورٹائز وغیرہ ۔
گوگل نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اگرصارفین کسی ایسی ویب سائٹ پر جا رہے ہیں جو کمپیوٹر کو نقصان پہنچا سکتی ہے تو ایک پیغام نمودار ہوتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے یہ سائٹ آپ کے کمپیوٹر کو نقصان پہنچا سکتی ہے ۔اس سے بہت سے صارفین ملیشیس کوڈ کے حملے سے بچ سکتے ہیں۔