Thursday, 03 May, 2007, 03:23 GMT 08:23 PST
امریکہ میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کی سکیننگ کرنے کے نئے طریقے سے جو ابتدائی اعدادو شمارسامنے آئے ہیں ان کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ اس سرخ سیارے کی آدھی سطح پر برف پائی جاتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق سکیننگ کا یہ نیا طریقہ پہلے سے زیادہ بہتر نتائج پیش کرتا ہے۔
یہ اعدادو شمار اگست میں شروع ہونے والے فینِکس مارز مشن کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے جس میں مریخ پر برف کی کھدائی کے لئے مشین لگائی جائے گی۔
نئے اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برف کی سطح کتنی گہری ہے۔
برف کے یہ ذخائر اس سیارے کے نارتھ پول میں برف سے اتنے زیادہ ہیں کہ اگر وہ پگھل جائیں تو پورے سیارے کو ایک سمندر میں تبدیل کردیں۔
ابھی تک سائنس دان مریخ کے مدار میں موجود خلائی طیارے میں نصب سپیکٹرو میٹر کے استعمال سے پانی کے ذخائر کا پتہ لگا سکے تھے۔
اب اریزونا یونیورسٹی کے ڈاکٹر جوشوا بینڈفیلڈ نے مریخ پر برف کے بارے میں پتہ لگانے کا ایک نیا طریقہ نکالا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی خلائی طیارے ’اوڈیسی ‘ سے آنے والی تھرمل شعاعوں میں تبدیلی کا موازنہ کر کے برف کی بالکل صحیح مقدار کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔