Saturday, 21 April, 2007, 08:00 GMT 13:00 PST
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سورج کے گرد ماحول میں موجودگرم گیسوں کے لچھےکسی ’موسیقی‘ کے آلے کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔
نیشنل ایسٹرانمی میٹنگ میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر رابرٹ وان فے سیبن برجن نے بتایا کہ دائرے کی شکل میں نکلنے والی یہ لہریں جنہیں ’ کورونل لوپس‘ کہا جاتا ہےکافی حد تک کچھ ایسی ہی موسیقی پیدا کرتی ہیں جیسی پائپ آرگن سے نکلتی ہیں۔
مائکرو فلیئر کہلائے جانے والے شمسی دھماکوں سے جو گونج پیدا ہوتی ہے وہ گیسوں کے اس لچھے میں ارتعاش پیدا کرتی ہے۔اس سے ایسا اثر پیدا ہوتا ہے جیسے کسی نے گٹار کے تاروں کو چھو دیا ہو ۔
سورج کے گرد یہ ہالہ یاگرم گیسوں کا غلاف ہےاور اس کا درجہ حرارت سورج سے دوری ہونے کے سبب کم ہونا چاہئے لیکن دراصل اس کا درجہ حرارت سورج کی ظاہری سطح سے تین سو گنا زیادہ ہوتا ہے۔اور کوئی اس بات کی وضاحت نہیں کر سکا کہ ایسا کیوں ہے ۔
یہ کورونل لوپس سورج کی سطح سے ہزاروں لاکھوں کلومیٹر دور ہےجو سورج کے مقناطیسی میدان سے آگ کے فوارے کی مانند نکلتے ہیں۔
مائکرو فلیئر کہلائے جانے والے شمسی دھماکےلاکھوں ہائیڈروجن بموں کے مساوی توانائی رلیز کرتے ہیں۔
پروفیسر رابرٹ کا کہنا ہے کہ کورونل لوپس کے گرد درجہ حرارت اتنا زیادہ کیوں ہوتا ہے اس بات کی تحقیقات سے زمین پر صنعتی سطح پر نیوکلیئر فیوژن کی ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد ملے گی۔
نیوکلیئر فیوژن ایک ایسا عمل ہے جس سے سورج اور دوسرے سیاروں کو توانائی ملتی ہے اور اس کے عمل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی پیدا نہیں ہوتی۔
پروفیسر رابرٹ کا کہنا ہے کہ کورونل لوپس کے جائزے سے نیوکلیئر فیوژن کو بہتر بنانےمیں مدد مل سکتی ہے۔