Monday, 09 April, 2007, 11:37 GMT 16:37 PST
ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ معدہ میں چکنائییت کی موجودگی وٹامن سی کی سرطان کے خلاف کام کرنے کی صلاحیت پر حاوی ہو جاتی ہے۔
یونیورسٹی آف گلاسکو میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے لیبارٹری میں معدے میں ہونے والے کیمیائی عمل کو مصنوعی طور پر کرکے اس کا مشاہدہ کیا ہے۔
تجربے میں انہوں نے دیکھا کہ وٹامن سی (ایسکاربک ایسڈ) نے معدے میں کینسر پیدا کرنے والے ان عناصر کو صاف کر دیا جو معدے کی رطوبتوں کے خوراک اور معدے کے تیزاب کے ساتھ مل کر بنتے ہیں۔ لیکن جب انہوں نے وٹامن سی اور ان عناصر کے مرکب میں چکنایت کا اضافہ کیا تو دیکھا کہ وٹامن سی کی مضر عناصر کو مفید عناصر میں تبدیل کرنےکی صلاحیت ختم ہو گئی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کے تجربات یہ واضح کرتے ہیں کہ ہماری خوراک اور معدے کے سرطان کے درمیان تعلق ہو سکتا ہے۔
معدے کے سرطان (گیسٹرک کیسنر) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس مرض کا سبب نٹرائیٹ نامی عنصر ہوتا ہے جو تھوک میں موجود ہوتا ہے اور اس کا ماخذ ہماری خوراک میں موجود نائٹریٹ ہوتا ہے۔
وٹامن سی یا ایسکوربک ایسڈ کی معدے میں موجودگی این نائیٹروسو کمپاؤنڈز کو بننے سے روکتی ہے لیکن اگر معدے میں چکنایت بھی موجود ہو تو وٹامن سی یہ کام نہیں کر سکتی۔
تحقیق کرنے والی ٹیم کی سربراہ ایملی کومبٹ کا کہنا تھا ’ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ چکنائیت کی موجودگی سے وٹامن سی کے اچھے اثرات بہت حد تک متاثر ہو جاتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ چکنائیت معدے میں ہونے والے کیمیائی عمل پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔‘
ایملی کومبٹ نے اپنی تحقیق کے نتائج تجرباتی حیاتیات کی سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے۔
مذکورہ تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے برٹش نیوٹریشن فاؤنڈیشن سے منسلک سائنسدان برجٹ ایسبٹ نے کہا: ’ سرطان ایک پیچیدہ بیماری ہے جسے ہونے میں کئی سال لگتے ہیں اور اس کے پیچھے کئی جینیاتی اور ماحولیاتی اسباب ہوتے ہیں ، اس لیئے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ صرف کوئی ایک عنصر کیسنر نہیں پیدا کر سکتا۔ تاہم اس کے باوجود میں کہوں گی یہ تحقیق خاصی دلچسپ ہے۔‘
اس سلسلے میں برجٹ ایسبٹ نے مشورہ دیتے ہوئے مزید کہا: ’ تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ متوازن خوراک کتنی ضروری ہے، یہ کہ چکنائی والے کھانے زیادہ نہیں کھانے چایئیں اور یہ کہ ہر روز وٹامن سی سے بھرپور پھل اور سبزیاں کھانا کتنا اہم ہے۔‘