Monday, 09 April, 2007, 01:45 GMT 06:45 PST
ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ایک بڑی کانفرنس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اربوں لوگوں کے لیے پانی اور خوراک کی قلت اور سیلاب کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
اس رپورٹ کے حتمی متن کے بارے میں رات بھر برسلز میں ہونے والے بحث و مباحثے کے بعد معاہدہ ہوا۔
وہاں موجود ماہرین کا کہنا تھا کہ ماحولیات کی تبدیلی کا سب سے برا اثر غریبوں پر پڑے گا۔
انٹر گورمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (ماحولیات کی تبدیلی سے متعلق بین حکومتی پینل ) کے چیئرمین راجندر پچوری کا کہنا ہے کہ اس کا شکار غریب لوگ ہوں گے اور ان میں وہ غریب بھی شامل ہیں جو خوشحال معاشرے کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس ان حالات سے نپٹنے کے لئے وسائل نہیں ہیں۔
پینل کے ورکنگ گروپ کے معاون چئر پرسن مارٹن پیری نے کہا ایسی شہادتیں مل رہی ہیں کہ ماحولیات کی تبدیلی کا براہ راست اثر جانوروں سیاروں اور پانی پر ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات اس طرح ہیں ۔
پورے افریقہ میں 75 سے 250 ملین لوگ 2020 تک پانی کی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا ئی فصلوں کی پیداوار میں 20 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ وسطی اور جنوبی ایشیا میں 30 فیصد کمی آئے گی۔
2020 تک کچھ افریقی ممالک میں بارانی سے ہونے والی کاشتکاری 50 فیصد کم ہو جائے گی۔
گلیشیئر اور برف سے ڈھکے علاقوں میں کمی آئے گی۔اور ان ممالک میں پانی کی کمی ہو جائے گی جہاں برف سے پگھلا ہوا پانی جاتا ہے۔
![]() | |
| سمندر کی سطح بلند ہوگی سیلاب اور طوفان برپا ہوں گے |
سائنس دانوں اور سیاست دانوں نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔
رائل سوسائٹی کے صدر مارٹن ریس کا کہنا تھا کہ حکومتوں صنعتوں اور لوگوں کے لیے یہ ایک اور انتباہ ہے۔اور عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے اثرات ہمیں پہلے ہی نظر آنے لگے ہیں۔اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لوگوں کی مدد کی جائے جو متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں تاکہ وہ اپنے تحفظ کے انتظامات کر سکیں۔
اس رپورٹ کا خلاصہ جون میں ہونے والے جی 8 سربراہوں کے اجلاس میں بھیجا جائے گا۔