Monday, 02 April, 2007, 15:26 GMT 20:26 PST
میوزک کی مشہور کمپنی ای ایم آئی اپنے کچھ گانوں پر ویب سائٹوں کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کرنے پر لگائی سافٹ وئیر کی پابندیاں ہٹا رہی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آن لائن میوزک سائٹس پر ایم ایم آئی کے گانوں کے پریمئر ورژن پر کاپی رائٹس کے حوالے سے لگائی گئی کئی قسم کی ڈیجنٹل پابندیاں اب نہیں ہوں گی جو کہ پہلے ہوا کرتی تھیں۔
ای ایم آئی کا حالیہ اقدام اس حوالے سے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ میوزک ڈاون لوڈ کرنے کی کئی ویب سائٹس ’پائریسی‘ کو محدود کرنے کی کوششوں میں ہیں۔
ایپل کا آئی ٹیونز سٹور مئی میں ای ایم آئی کے گانوں کی پریمیم فارمیٹ میں فروخت شروع کردے گا۔ ای ایم آئی کا کہنا ہے کہ اس کے کیٹلاگ میں موجود ہر گانا اسی پریمیم فارمیٹ کے مطابق دستیاب ہو گا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پابندیوں کے بغیر گانے کافی مہنگے ہوں گے اور ان کی کوالٹی بھی اس وقت پیش کیے جانے والے گانوں کے مقابلے میں کہیں اعلیٰ ہو گی۔
ای ایم آئی کمپنی کے مقبول فنکاروں میں للی ایلن، جوس سٹون، رابی ولیمز، کولڈ پلے اور کورینے بیلی رے شامل ہیں۔
ابتدائی سطح پر یہ چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ بیٹلز کے گانے آن لائن پر دستیاب ہوں گے تاہم اس بارے میں کمپنی کی جانب سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
گانوں کی انتہائی قیمت کا اطلاق صارفین کے ڈاؤن لوڈ کیے جانے والے سنگل ٹریکس پر ہوگا۔ ڈیجیٹل کاپی رائٹ پروٹیکشن سافٹ وئیر سے مستثنیٰ آئی ٹیونز ایم ای آئی ٹریکس کی قیمت ایک اعشاریہ انتیس ڈالر ہو گی۔
ای ایم آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کمپنی پائریسی کے خلاف جنگ سے دستبردار ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں صارفین پر اعتماد ہے اور کمپنی کا یہی موقف رہا ہے کہ میوزک کے غیر قانونی استعمال سے بچنے کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ قانونی اور معیاری مواد مناسب طور پر دستیاب ہو۔
ایپل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل انقلاب کے حوالے سے یہ اگلا انتہائی اقدام ہے۔ اس اقدام کا یہی مقصد ہے کہ صارفین اپنی مرضی سے گانے ایک میوزک پلیئر سے دوسرے پر منتقل کر سکیں گے۔
![]() | |
| صارفین اپنی مرضی سے گانے ایک میوزک پلیئر سے دوسرے پر منتقل کر سکیں گے |
دوسری طرف وال سٹریٹ جرنل کی اطلاعات کے مطابق ای ایم آئی بغیر کسی ڈیجیٹل رائٹس مینیجمنٹ کے بڑی تعداد میں میوزک فروخت کرنے کا منصوبہ
بنا رہی ہے۔ اس سال کے آغاز میں ایپل کے سربراہ نے میوزک کے حوالے سے ڈیجیٹل رائٹس مینیجمنٹ یا ڈی آر ایم کو ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی آر ایم سافٹ وئیر کی منسوخی صارفین اور میوزک فراہم کرنے والی کمپنیوں دونوں کے حق میں بہتر ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سافٹ وئیر میوزک کی نقل تیار کرنے کے مسئلے پر قابو پانے میں ناکام ہو چکا ہے۔
ای ایم آئی نے اس سال کے آغاز میں مارکیٹ کے رحجان کو جاننے کے لیے نورا جونز کا ایک گانا ڈی آر ایم کے بغیر فورخت کے لیے پیش کیا تھا۔
ڈی آر ایم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پابندیوں سے فنکاروں کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے اور دوسری طرف میوزک اور دوسری چیزوں جیسے فلموں وغیرہ کے چوری ہونے کے امکانات بھی معدوم ہو جاتے ہیں۔