Thursday, 29 March, 2007, 04:34 GMT 09:34 PST
ورلڈ اکنامک فورم کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجیکل اختراعات کے میدان میں امریکہ کی ’بادشاہت‘ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ کی حیثیت اب کلیدی نہیں رہی اور قوموں کی ترقی میں ٹیکنالوجی کے کردار کے حوالے سے کی گئی درجہ بندی میں اس کا نمبر اب ساتواں ہے، جو سال دو ہزار پانچ تک پہلا ہوا کرتا تھا۔
ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں سیاسی اور ریگولیٹری ماحول میں ابتری کو امریکہ کے زوال کی وجہ بتایا گیا ہے۔
ڈنمارک پہلی دفعہ اس درجہ بندی میں سرفہرست ہو گیا ہے، جبکہ سویڈن اور سنگاپور باالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔
ٹیکنالوجی میں ترقی کو کاروبار، میسر انفراسٹرکچر اور معاشی بہتری کے لیے حکومت کی طرف سے متعارف کرائے گئے قوانین و ضابطوں اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کی روشنی میں جانچا جاتا ہے۔
پہلے نمبر سے ساتویں نمبر پر آ جانے کے باوجود امریکہ میں اب بھی ٹیکنالوجیکل اختراع پر بہت توجہ دی جاتی ہے، جس کی بنیاد دنیا میں بہترین سمجھے جانے والے اس کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے صنعتی شعبے سے منسلک ہونے پر رکھی گئی ہے۔
ڈنمارک کے سرفہرست ہو جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے ورلڈ اکنامک فورم کی سینئر معیشت دان ارنی میا کا کہنا تھا کہ اس میں کارفرما جو عوامل ہیں ان میں ڈنمارک میں حکومت کی متاثرکن ’ای لیڈرشپ‘ یعنی الیکٹرانک قیادت، ٹیلی کیمیونیکیشن سیکٹر کی لبرلائزیشن اور معاشی ترقی کے لیے اعلیٰ درجے کا موافق ماحول قابل ذکر ہیں۔
ایشیا اور بحرالکاہل کے ساتھ واقع ممالک میں ترقی جاری ہے لیکن معاشی ترقی کے گڑھ چین اور بھارت دونوں نے اس حوالے سے تنزلی کا مظاہرہ کیا ہے۔
بھارت جو پچھلے سال چالیسویں نمبر پر تھا، اس سال چوالیسویں نمبر پر ہے۔ اس کی بڑی وجہ ناکافی انفراسٹرکچر اور انفرادی سطح پر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بہت کم استعمال بتایا گیا ہے۔
چین پچاس سے انسٹھ نمبر پر آ گیا ہے اور اس کی وجہ چینی کاروباری اداروں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کم استعمال بتایا گیا ہے۔