Saturday, 17 March, 2007, 10:38 GMT 15:38 PST
پالب گوش
نامہ نگار سائنس، بی بی سی نیوز
موسمی تبدیلیوں پر تحقیق کرنے والے برطانیہ کے دو ماہرین نے اپنے ان ساتھیوں پر تنقید کی ہے جو ان کے خیال میں عالمی حدت کے معاملے کو ’سنسنی خیز‘ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
رائل مٹیریولوجیکل سوسائٹی کے پروفیسر پال ہارڈیکر اور کرس کولیئر اپنے ان خدشات کا اظہار آکسفورڈ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں کرنے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ محقق ہماری آب و ہوا پر مستقبل میں ایسے اثرات ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں جن کا دفاع سائنس کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔
دونوں محققوں کا خیال ہے کہ ان کے کچھ ساتھی موسمی تبدیلیوں کے قیامت خیز مناظر پیش کر کے عوام کے ذہنوں میں بے یقینی پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے زمین کی آب وہوا میں مستقبل میں آنے والی ممکنہ تبدیلیوں کے سلسلہ میں غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ سنجیدہ اور مدلل سوچ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اس سلسلہ میں وہ امیرکن ایسوسی ایشن آف سائنس کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان کی مثال دیتے ہیں۔ ادارے نے فروری میں سان فرانسسکو میں اپنے سالانہ اجلاس میں نہایت سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا تھا: ’حسب توقع خشک سالی، گرمی کی لہروں، سیلابوں، جنگلوں میں آگ اور سمندری طوفانوں میں شدت آ رہی ہے جس سے ہمارے نازک ایکو سسٹم اور انسانی آبادیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یہ تمام آنے والی ایک بڑی تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، ایسی تباہی جس کا رخ موڑنا ناممکن ہوگا۔‘
پروفیسر پال ہارڈیکر اور پروفیسر کرس کولیئر کے مطابق ہو سکتا ہے یہ باتیں سچ ہو جائیں لیکن ان دعووں کے حق میں دلائل ابھی تک پیش نہیں کیے جا سکے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر کرس کولیئر نے کہا :’ یقیناً یہ ایک نہایت سخت بیان ہے۔ میرا خیال ہے یہاں اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ عالمی حدت سے سمندری طوفانوں میں اضافہ ہو چکا ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آب و ہوا کے تمام عناصر میں اسی قسم کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
خامخواہ وایلا |
ادارے کے موجودہ چیف ایگزیکٹو پروفیسر پال ہارڈیکر نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے لگتا ہو کہ عالمی حدت کی وجہ سے ہم بہت جلد کسی بڑے خطرے سے دوچار ہونے والے ہیں، اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے بیانات جن میں سائنس اور غیر سائنسی مفروضوں کو ملا دیا جاتا ہے، خطرات ہو سکتے ہیں۔‘
جب امیرکن ایسوسی ایشن آف سائنس کی توجہ پروفیسر پال ہارڈیکر اور کرس کولیئر کے تبصرے کی جانب دلائی گئی تو ادارے کا کہنا تھا کہ وہ اس پر کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کرے گا، تاہم ادارے کے ترجمان کا کہنا تھا : ’ ہم سمجھتے ہیں کہ کہ ہمارے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حالیہ متفقہ بیان اپنے اندر مکمل ہے۔‘
ترجمان نے مزید کہا ’ بورڈ نے جو بیان دیا ہے اس میں لکھا ہے کہ یہ نتائج کن سائنسی بنیادوں پر اخذ کیے گئے ہیں۔‘
سنسنی کا دوسرا نقصان |
ان کا کہنا تھا ’ہمیں جیتنے کا موقع صرف سائنسی استدلال کو دینا چاہیئے۔‘
پروفیسر پال ہارڈیکر اور کرس کولیئر دونوں نے ایک مشترکہ مقالہ لکھنے میں مدد دی ہے جس کا عنوان ’موسمی اور آب و ہوا میں تبدیلیوں کو سمجھنا‘ ہے۔ سنیچر کے دن یہ مقالہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک کانفرنس میں پیش کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب موسمی تبدیلیوں کے بارے میں امیرکن ایسوسی ایشن آف سائنس کی رائے ان کی ویب سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہے ۔ ویب سائٹ کا پتہ اس صفحہ پر موجود ہے۔