Saturday, 03 March, 2007, 11:26 GMT 16:26 PST
برقی آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اس بات کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ لوگوں کو ان کی لت پڑ رہی ہے۔ اس رجحان کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ عملے اور آجر کے درمیان چوبیس گھنٹے رابطے کی سہولت کی وجہ سے لوگوں کے کام اور ذاتی زندگی میں فاصلہ مِٹ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے عام آدمی کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ معلومات کی بھرمار سے ذہن کی انہیں کو پرکھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔
حال ہی میں سوٹزرلینڈ میں ہونے والی ایک ٹیکنالوجی کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ ٹیکنالوجی کا اضافی بار وہ قیمت ہے جو لوگوں کو چوبیس گھنٹے رابطے میں رہنے کے بدلے ادا کرنی پڑے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہر طرف سے معلومات کی بھرمار فائدہ مند بھی ہو سکتی ہے۔
یونیورسٹی لوسین کے پروفیسر فریڈ ماست کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں لوگوں کو دماغ کی نئے چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا پوری طرح اندازہ نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی ترجیحات خود طے کر کے ٹیکنالوجی کی بھرمار سے نمٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا اب لوگ ای میل کا فوری جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے تاہم ایس ایم ایس کا فوری طور پر جواب دیا جاتا ہے۔ اس طرح لوگ کام کے معاملے میں بھی حدود مقرر کر سکتے ہیں کہ ان کی ذاتی زندگی متاثر نہ ہو۔