Friday, 02 February, 2007, 18:07 GMT 23:07 PST
کینسر کا معجزاتی علاج ممکن نہیں
خاصے طویل عرصے سے سائنسداں کینسر کے علاج کی تلاش میں ہیں۔
برطانیہ میں کینسر کی تحقیق میں ایک معروف ماہر نے کہا ہے کہ اس بیماری کا کبھی بھی کسی ایک جادوئی گولی سے علاج ممکن نہیں ہوگا۔
پروفیسر بروس پاؤنڈر نے کہا کہ تحقیق کا اصل مقصد مریضوں کی زندگی بچانے کے امکانات کو بڑھانا ہے۔
پروفیسر پاؤنڈر، برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے تحقیقاتی انسٹیٹیوٹ، نیو کینسر ریسرچ، کے ڈائریکٹر ہیں۔
جمہ کے روز ملکہ برطانیہ اِس ادارے کا باضابطہ افتتاح کریں گی۔ جو 300 ماہرین پر مشتمل ہوگا۔
اب سوال بنتا ہے کہ اس ادارے کا مقصد کیا ہوگا؟ کچھ عرصے پہلے اس کا جواب آسان تھا یعنی کینسر کا علاج۔
امریکہ صدر رچرڈ نکسن نے جنوری 1971 میں امریکی کانگریس سے خطاب کے دوران قدرے دشوار ہدف ان الفاظ میں رکھا۔ ’ اب امریکہ میں وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اب کینسر کا علاج ڈھونڈنے کے لئے ویسی ہی کوششوں کی ضرورت ہے جو ہم نے ایٹم کو توڑنے اور اور انسان کو چاند پر پہچانے کے لئے استعمال کی تھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ کئی ماہرین کینسر کے علاج کے لئے نکسن کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ انسان کو چاند پر بھیجنے کے لئے جس انجنئیرنگ اور سائینس کی ضرورت ہے اس کاہمیں ادراک ہے لیکن اس کے مقابلے میں ہم کینسر کی حیاتیاتی حقیقت بہت کم جانتے ہیں۔
پروفیسر پاؤنڈر نے یہ بھی کہا کہ ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ کینسر کا علاج ہوسکیں۔ لیکن اب ہمارہ مقصد کینسر کے مرض میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کو کم کرنا، مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر کرنا ہے۔
اس ادارے کے آدھے ماہرین اس بات پر تحقیق کریں گے کہ کینسر کس طرح بڑھتا ہے۔
باقی ماہرین اس ٹیکنالوجی پر تحقیق کرینگے جس کی مدد سے کینسر کی بہتر تشخیص ممکن ہوسکے۔
اور آخری گروپ ڈاکٹروں کا ہوگا جو مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ کینسر پر تحقیق بھی کریں گے۔