http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 08 January, 2007, 05:45 GMT 10:45 PST

رحم کے خلیوں سے بیماریوں کا علاج

امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سٹیم سیل (جانداروں میں بنیادی یا خام خلیہ) کا ایک نیا ذریعہ دریافت کر لیا ہے، جو ایک دن متاثرہ انسانی اعضاء کو درست کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

سائنسدانوں کے مطابق انہوں نے پہلے رحمِ مادر میں بچے کو لپیٹ میں لیے ہوئے سیّال مادے سے خلیوں کو حاصل کیا اور پھر انہیں لیبارٹری میں پروان چڑھایا۔

کارآمد بنیادی خلیوں کو اس سے قبل خاص طور پر تیار کیے گئے انسانی جنین (بچہ بننے کا ابتدائی مرحلہ) سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس طریقہ کار پر کافی تنقید کی جاتی ہے، کیونکہ بنیادی خلیے حاصل کرنے کے عمل میں انسانی جنین ضائع ہو جاتا ہے۔

نئے طریقہ کار کے بارے میں امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے حاصلکردہ خلیوں میں بڑھنے کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر بیماریوں کا علاج کیا جا سکے گا۔

تاہم اسی موضوع پر تحقیق کرنے والے برطانوی سائنسدانوں نے نئے طریقہ کار کے عملی طور پر کامیاب ہونے پر شک و شبہ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی عورتوں کے رحم مادر سے خلیوں کو حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔

رحم مادر میں بچے کے گرد لپٹا سیال مادہ خلیوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں سے بہت سے بڑھتے ہوئے جنین سے حاصل ہوتے ہیں۔

امریکہ علاقے ٹیکساس کی ’ویک فارسٹ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن‘ سے تعلق رکھنے والی سائنسدانوں کی ٹیم نے دوران حمل ٹیسٹ کرانے والی خواتین سے حاصل کردہ سیال مادے کے نمونوں کو لیبارٹری میں پروان چڑھایا تو انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ان میں کئی طرح کے خلیے بننے کی صلاحیت ہے۔

اس کے بعد انہوں نے مزید تجربات کے لیے ان خلیوں کو ایک چوہیا میں داخل (ٹرانسپلانٹ) کیا اور دیکھا کہ ان خلیوں نے دماغ اور جگر میں اہم کیمیائی مادے پیدا کیے ہیں۔

ان تجربات سے سائنسدانوں نے نتیجہ نکالا کہ رحم مادر کے سیال مادے سے حاصلکردہ خلیوں میں مخلتف قسم کے خلیے بننے کی صلاحیت ہے جس کی مدد سے علاج میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے، خاص طور پر اس بچے کے لیے جس کی ماں کے رحم سے یہ خلیے حاصل کیے گئے تھے۔

برطانیہ کی ’نیوکاسل یونیورسٹی‘ کے پروفیسر کولن میکگوکن نے نئی تحقیق کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ رحم مادر سے مطلوبہ خلیوں کا حصول اس صورت میں ہی ہو سکے گا کہ اگر بچے کی پیدائش قدرتی عمل کی بجائے آپریشن کے ذریعے ہو۔ ’لیکن یہ طریقہ بچہ پیدا کرنے کے قدرتی عمل کے تجربے سے محروم کر سکتا ہے‘۔