http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 07 January, 2007, 12:16 GMT 17:16 PST

جدید ٹیکنالوجی عام فہم ہو رہی ہے

لاس ویگاس میں ہونے والی تحقیق کے مطابق عام لوگ بہت تیزی سے جدید ٹیکنالوجی کو اپنا رہے ہیں۔

کنزیومر الیکٹرانکس شو میں شریک ایک تجزیہ کار شان وارگو کا کہنا ہے کہ’صارفین ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہیں اور اسے طریقۂ کار کے مطابق اپناتے ہیں‘۔

امریکہ میں امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے بارہ ماہ میں ایک سو پچپن بلین ڈالر ’ کنزیومر ٹیکنالوجی‘ کی مد میں خرچ کیے جائیں گے۔ اور اسی سلسلے کی ایک کڑی لاس ویگاس کا ٹیکنالوجی شو ہے جس میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد شریک ہوئے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی معیشت میں سست روی کے باوجود عام آدمی کی نئے’گیجیٹس‘ میں دلچسپی بڑھی ہے۔ تجزیہ کار اور کنزیومر الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر شان وارگو کے مطابق’ لوگ نہ صرف اپنے آلات اپ گریڈ کروا رہے ہیں بلکہ ہر سال نئی ٹیکنالوجی خرید بھی رہے ہیں۔ اوراب یہ رجحان پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہے اور لوگ دوسروں سے پہلے نئی چیز لینا چاہتے ہیں‘۔

کنزیومر الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے مطابق 2006 میں ایک عام امریکی گھر میں اوسطاً پندرہ سو امریکی ڈالر ٹیکنالوجی سے متعلق اشیاء پر خر چ کیے گئے اور اس سال یہ رقم بڑھ کر دو ہزار ڈالر ہو جائے گی۔

تحقیق کے مطابق صارفین اپنی فالتو آمدن کا ایک بڑا حصہ ٹیکنالوجی کی اشیاء پر خرچ کر رہے ہیں اور یہ رجحان جاری رہے گا کیونکہ عام افراد بھی اب پکچر ٹیوب ٹی وی کی جگہ ایل سی ڈی ٹی وی اور سی ڈی پلیئرز کی جگہ ایم پی تھری میوزک پلیئرز خریدنے لگے ہیں۔

کنزیومر الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے مطابق امریکہ میں سنہ دو ہزار سات کے اختتام تک اکتالیس ملین افراد کے پاس ایم پی تھری میوزک پلیئر موجود ہوگا کیونکہ اب لوگ اپنے موجودہ سی ڈی پلیئرز کو تیزی سے نئی ٹیکنالوجی سے تبدیل کر رہے ہیں۔

کنزیومر الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر شان وارگو کا کہنا ہے کہ’ ہم صارفین کو پرانے ماڈلز سے نئے ماڈلز کی جانب جاتا دیکھ سکتے ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صارفین میں انٹرنیٹ پر ٹی وی پروگرام اور ویڈیوز دیکھنے اور گیمز کھیلنے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

تاہم تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نصف سے زائد لوگ اپنے ٹی وی کو اپنے ذاتی کمپیوٹر کے مانیٹر کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔شان وارگو کے مطابق’ شاید لوگ ٹی وی اور ذاتی کمپیوٹر کا فرق مٹانا چاہتے ہیں اور ایک گھریلو آفس بنانا چاہتے ہیں‘۔