Thursday, 28 December, 2006, 15:28 GMT 20:28 PST
کولمبیا کی ایک خاتون دنیا کی پہلی خاتون ہیں جن کے دونوں ہاتھوں کا ٹرانسپلانٹ کامیاب رہا ہے۔
سنتالیس سالہ البا لیوسیا کا تعلق کولمبیا سے ہے اور ویلنسیا کے ایک ہسپتال میں ان کے دونوں ہاتھ لگانے کے لیے پہلا آپریشن تیس نومبر کو کیا گیا تھا۔ یہ آپریشن دس گھنٹے طویل تھا۔
البا لیوسیا کا کہنا ہے ’ وہ اس آپریشن کے بعد بہت خوش اور مطمین ہیں‘۔ان کے دونوں ہاتھ تیس سال قبل کیمسٹری کی لیبارٹیری میں ایک دھماکے میں ضائع ہو گئے تھے اور جنھیں بعد میں مکمل طور پر کاٹ دیا گیا تھا۔
ان کے نئے اعضا ایک ایسی خاتون کے ہیں جنھیں ایک حادثے کے بعد دماغی طور پر مردہ قرار دیا جا چکا ہے۔ اس خاتون کے بازوں کو کہنی کے قریب سے اتارا گیا جس کے بعد ان بازوں کو ٹھنڈا کرکے پانچ گھنٹے سے کم وقت میں اس ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں البا لیوسیا کا آپریشن کیا جانا تھا۔
دس طبی ماہرین پر مشتعمل ایک ٹیم نے، جس میں سرجنز اور اینستھزیسٹ شامل تھے، ان بازوں کو البا لیوسیا کے بازوں کے ساتھ جوڑا اور دونوں بازوں کا ٹرانسپلانٹ ایک ہی وقت میں کیا گیا۔
پہلے البا لیوسیا کی بازوں کے سائز کو عطیہ دینے والی خاتون کے بازوں کے سائز سے ملایا گیا۔
آپریشن کے بعد جب البا لیوسیا نے پہلی مرتبہ اپنے ہاتھ دیکھے تو ان کا کہنا تھا ’یہ بہت خوبصورت لگ رہے ہیں‘۔
پیڈرو کاواڈاس جن کی سرکردگی میں یہ آپریشن کیا گیا، کہتے ہیں کہ وہ اس آپریشن کے نتائج سے بہت خوش ہیں۔
ان کا کہنا ہے ’البا لیوسیا کے دونوں ہاتھوں اور بازوں کے اگلے حصے کو کلائی کی ہڈی سے دو انچ اوپر لگایا گیا ہے۔ پانچ یا چھ مہینے کے بعد وہ ان بازوں میں حرکت محسوس کر سکے گی‘۔
انہوں نے کہا’وہ بہت خوش ہے۔ اس نے اٹھائیس سال ہاتھوں کے بغیر گزارے ہیں اور اب وہ اپنے آپ کو دوبارہ خوبصورت ہاتھوں کے ساتھ دیکھ سکتی ہے۔ ان ہاتھوں کے ساتھ وہ ایک خودمختار زندگی گزار سکے گی ‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا ’ کچھ کیسوں میں اس طرح کے اعضا مصنوعی اعضا سے بہتر کام کرتے ہیں‘۔
اس سے قبل سن دو ہزار میں فرانس میں 33 سالہ شخص کے دنوں ہاتھوں کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا۔