Tuesday, 05 December, 2006, 14:27 GMT 19:27 PST
امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ وہ چاند پر ایک مستقل ٹھکانہ بنانے کے لیے کام شروع کرنے والا ہے۔
اس منصوبے پر کام دوہزار بیس میں خلاء بازوں کے چاند پر دوبارہ پہنچنے کے بعد شروع ہوگا۔
سائنس کے مرکز کے طور اس مستقل ٹھکانے کو چاند کے کسی ایک پول پر قائم کیا جائیگا اورمریخ مشن کے لیے یہ مجوزہ مرکز ایک سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکہ نے یہ بات پہلے ہی کہی تھی کہ وہ سنہ 1972 کے اپالو مشن میں پوری طرح کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایک نیا لونر خلائی کرافٹ تیار کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
ابھی اس نئے ٹھکانے کی شکل و صورت اور خلابازوں کے کام کاج کے طور طریقوں بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ابھی یہ بھی نہیں پتہ ہے کہ مجوزہ مرکز کب کام کرنا شروع کریگا۔
ناسا کے سینئر افسر سکاٹ ہورووز نے بتایا ہے ' ہم چاند پر ایک نیا مرکز بنانے جارہے ہیں۔،
ایجنسی کے نائب سربراہ شانا ڈیل کا کہنا تھا کہ چاند کے متعلق نئی حکمت عملی پہلے سے بالکل مختلف ہوگی۔
ناسا نےفیصلہ کیا ہے کہ خلائی تحقیق کے لیے پہلے کی طرح مختصر دوروں کے بجائے اب ایک مستقل سٹیشن کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اس نے دوسرے ممالک اور تاجروں سے مدد کی بھی درخواست کی ہے۔
کولمبیا خلائی شٹل تباہ ہونے کے بعد امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ وہ خلاء بازوں کو دوہزار بیس تک دوبارہ چاند پر بھیجیں گے۔
گزشتہ اگست میں ناسا نے اعلان کیا تھا کہ چاند پر انسانوں کے لے جانے کے لیے 'لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن، امریکہ کے لیے ایک نیاخلائی جہاز بنائیگی۔