Friday, 24 November, 2006, 20:11 GMT 01:11 PST
ماہی گیری پر اقوام متحدہ میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد ماہی گیری کے ان طریقوں پر پابندی لگانا تھا جن کی وجہ سے سمندری حشروں اور مچھلیوں کی پیداوار کی جگہوں نقصان پہنچتا ہے۔
بقائے ماحول کے ماہرین اور چند حکومتوں کا مطالبہ تھا کہ سمندر کی سطح کے قریب سے مچھلیاں پکڑنے کے عمل پر پابندی لگائی جائے جیسا کہ اس میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے بھاری جالوں اور رولرز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے سمندری نباتات کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔
ان مذاکرات میں صرف اس بات پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے کہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں گی۔
اکتوبر میں اعلیٰ پائے کے سائنسدانوں نے تنبیہ کی تھی کہ اگر مچھیرے مچھلیاں پکڑنے کے لیے اپنے موجودہ طریقہ کار پر قائم رہے تو اگلے پچاس سالوں میں مچھلیاں ناپید ہو جائیں گی۔
نیو یارک میں اقوام متحدہ میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد یہ تھا کہ پابندی کی قرارداد کو اگلے ماہ جنرل اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے اس پر منظوری حاصل کر لی جائے۔
مائی گیری کے اس طریقے سے ایسی مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں جن کی افزائش کا عمل بہت سست ہوتا ہے اور جو کئی دہائیوں کے بعد انڈے دینے کا کام کرتی ہیں۔ اس طرح کی مچھلیوں میں ’اورنج رفی‘ نامی قسم شامل ہے۔
پچھلے تین سالوں سے بقائے ماحول کے ماہرین اقوام متحدہ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ سمندری سطح کے قریب سے مچھلیاں پکڑنے کے عمل پر پابندی لگائی جائے لیکن اب انہیں مذاکرات کی ناکامی سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔
میرین کنزرویشن سوسائٹی(marine conservation society) میں مائی گیری سے متعلق پروگرام کے پالیسی افیسر بریس بیوکر سٹیوارٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ امید کر رہے تھے کہ گہرے سمندرو ں کی خوبصورت اور حیران کن مخلوق کو ہم کرس مس کے مہینے کے پہلے ہفتے میں ان کی بقا اور تحفظ کا تحفہ دیں گے لیکن ایک بار پھر تھوڑے عرصے پر مشتعمل سیاسی اور اقتصادی مفادات کے لیے اس اہم مطالبے کو رد کر دیا گیا ہے۔‘