Thursday, 16 November, 2006, 16:03 GMT 21:03 PST
سائنسدانوں کے مطابق دل کی بیرونی تہہ میں موجود سیل اس کی اندرونی تہوں میں جا کر وہاں پائی جانے والی خرابی کا علاج کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن کی اس نئی تحقیق کے بعد سائنسدانوں کے لیے ممکن ہو گا اس عمل کو کنٹرول کرنے والی پروٹین تھائی موسین بیٹا فور کو استعمال کر کے دل کی بیماری کا مزید موثر علاج کر سکیں۔
دل کی بیرونی تہہ میں موجود سیل اس لحاظ سے سٹیم سیل سے ملتے جلتے ہیں کہ اِن میں مختلف طرح کے بالغ ٹشوز میں تبدیل ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
اس سے پہلے یہ خیال کیا جاتا ہے یہ سیل دِل میں نہیں پائے جاتے اور دِل کی بیماری کے علاج کے لیے انہیں بون میرو سے لایا جانا ضروری ہے۔
تاہم تازہ ترین تحقیق س یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت میں یہ سیل دِل کے اندر موجود ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی کالج لندن کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تھائی موسین بیٹا فور پروٹین کے زیر اثر دِل کی بیرونی تہہ میں پائے جانے والے پروجینیٹر سیل خون کی نئی شریانوں کے بننے میں محرک ثابت ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدانوں نے ایسے چوہوں کی افزائش کی جن کے دلوں میں تھائی موسین بیٹا فور کی کمی تھی۔
یونیورسٹی کالج لندن کی اس تحقیق کے لیے فنڈز برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن اور میڈیکل ریسرچ کونسل نے فراہم کیے تھے۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ایسوسی ایٹ میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر جیرمی پیرسن کے مطابق یہ نتائج ’اہم اور دلچسپ‘ ہیں۔
’پہلی بار ایک ایسے مالیکیول کی نشاندہی کر کے جو بالغ دِل میں نئی شریانوں کا بننا ممکن بناتا ہے، ڈاکٹر ریلے کے گروپ نے دل کے علاج کے سلسلے میں ایک ایسی اہم پیش رفت کی ہے جس کے لیے سائنسدان ہنگامی بنیادوں پر کام کر سکتے تھے۔‘
میڈیکل ریسرچ کونسل کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر کولن بلیک مور کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے دل کی بیماری کے علاج کے بے پناہ مواقع پیدا ہوئے ہیں جس سے برطانیہ میں ہر سال ایک لاکھ پانچ ہزار افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے۔