Saturday, 11 November, 2006, 12:22 GMT 17:22 PST
ناسا کی خلائی تحقیقات سے ملنے والی معلومات کے مطابق ایک بہت بڑے سمندری طوفان کے شکل کی آندھی زحل کے جنوبی قطر کو گھیرے ہوئے ہے۔
پانچ ہزار میل پر مشتمل یہ طوفان اپنی طرز کا پہلا طوفان ہے جو زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر دیکھا گیا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس طوفان کی ایک آنکھ ہے اور اس کی تیز ہوائیں تین سو پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اس آنکھ کے گرد گھوم رہی ہیں۔
زمینی طوفانوں کے برعکس یہ طوفان صرف قطب جنوبی میں آیا ہے اور وہاں سے کہیں اور حرکت نہیں کر رہا۔
کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کیسینی ایمیجنگ ٹیم کے رکن ڈاکٹر اینڈریو انگرسول کہتے ہیں کہ ’ یہ طوفان دیکھنے میں تو سمندری طوفان کی طرح لگتا ہے مگر اس کی ساری خصوضیات اس طوفان کی ماند نہیں ہیں۔ یہ جو کچھ بھی ہے ہم اس طوفان کی آنکھ کا بغور مشاہدہ کریں گے اور یہ بات جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ وہاں کیوں موجود ہے‘۔
اگرچہ مشتری کی ’گریٹ ریڈ سپاٹ‘ نامی آندھی دائرے میں حرکت نہیں کر رہی اور یہ زحل میں آنے طوفان سے بہت بڑی ہے لیکن اس کے درمیان میں آنکھ نہیں ہے جو کہ سمندری طوفان کی نمایاں خصوصیت ہوتی ہے۔
زمین میں آنے والے طوفان میں آنکھ اس وقت بنتی ہے جب گرم اور نمی سے بھرپور ہوائیں سمندری سطح سے تیزی سے اوپر کی جانب اٹھتی ہیں اور اس کے سبب بہت بارشیں ہوتی ہیں اور ایک گول داہرہ بن جاتا ہے جس سے ہوائیں نیچے کی طرف حرکت کرتے ہوئے آنکھ میں داخل ہوتیں ہیں۔
زحل گیسوں پر مشتمل سیارہ ہے اور اس کی سطح پر سمندر بھی موجود نہیں ہے۔ زحل پر آنے والے اس طوفان کا قطر نہ صرف زمینی طوفان کے قطر سے بڑا ہے بلکہ یہ اونچائی میں بھی زیادہ ہے۔ اس میں بہت بڑے بڑے بادل ہیں جو کہ آنکھ کے اوپر بیس سے پینتالیس میل کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔