http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 19 October, 2006, 12:44 GMT 17:44 PST

چاند پر گھر بنائیں یا نہ بنائیں

امریکہ میں ایک نئی تحقیق میں اس بات پر شک کا اظہار کیا گیا ہے کہ چاند کے قطب جنوبی پر برف کے ذخائر ہیں جنہیں وہاں بستی قائم کرنے کے لیئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا چاند پر اڈے کے قیام کی منصوبہ بندی میں’برف کے ذخائر‘ کو اہمیت دیتا رہا ہے۔

چاند پر برف وہاں قائم اڈوں اور چاند سے پار سفر کے لیئے خلائی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کا قیمتی ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق ریڈار پر موصول ہونے والے وہ سگنل جنہیں برف کی موجودگی کا ثبوت سمجھا جاتا رہا ہے چٹانوں سے بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔

چاند پر موجودگی کے بارے میں پہلے شواہد انیس سو چرانوے میں امریکی چاند گاڑی آربِٹر کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔

نئی تحقیق کے لیئے امریکہ میں جامعۂ کارنیل کے ڈانلڈ کیمپبل اور ان کے ساتھیوں نے پورٹو ریکو میں ٹیلی سکوپ سے چاند کے قطب جنوبی پر شیکلٹن کریٹر کی تصاویر حاصل کیں جو اب تک زیادہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔

انہوں نے تصاویر کے مطالعے کے بعد کہا کہ اس طرح کے نتائج چاند پر برف کی موجودگی کی بجائے چٹانوں کی موجودگی سے بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔

شیکلٹن کریٹر کو اس کی اندرونی ڈھلوان پر ’برف‘ کی موجودگی اور اس کے دہانے کے کئی مقامات پر سال میں دو سو دن سورج کی روشنی پڑنے کی وجہ سے انسانی زندگی کے لیے موزوں قرار دیا جاتا ہے۔

انیس سو چورانوے میں تحقیق کے ذریعے چاند پر برف کی موجودگی کی بات کرنے والے مِشن کے ایک رکن ڈاکٹر پال پوڈِیس نے کہا کہ وہ اور نئی تحقیق کرنے والے ایک ہی چیز دیکھ رہے ہیں اختلاف صرف اس کی تشریح پر ہے۔