Saturday, 14 October, 2006, 13:35 GMT 18:35 PST
پروفیسر تاکامیشی ناکاموٹو کی تجربہ گاہ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے آپ جو محسوس کریں گے وہ کوئی بو ہو گی۔
یہ بو بھنے ہوئے گوشت، پیاز، جاپانی شوربے اور سڑے ہوئے انڈوں کی بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ بو کسی کمرے کی بوسیدگی میں بسی ہوئی محسوس ہوگی۔
لیکن یہ سب ایک پروفیسر کے اس انہماک کا نتیجہ نہیں ہے جو اپنی تحقیق کے لیے تجربات میں کھو کر غیر حاضر دماغی کا نشانہ بن گیا ہو اور اب اس کے گرد صرف بے ترتیبی کا پھیلاؤ رہ گیا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر طرف پھیلی ہوئی اس مہک کا پروفیسر کے کام سےگہرا تعلق ہے۔
سیب کی خوشبو |
اس سلسلے میں ان کی ٹیم کی تمام تر توقعات کا مرکز وہ آلہ ہے جسے وہ ’اوڈر ریکارڈر‘ یا ’بو ریکارڈر‘ کا نام دیتے ہیں اور جو کسی بھی خوش یا بد بو کو محسوس کر کے ریکارڈ کر سکتا ہے اور پھر اسے اپنے اندر موجود کیمیائی مادوں کی مدد سے دوبارہ تخلیق کر کے خارج کر سکتا ہے۔
![]() | |
| جاپان کے کئی خوشبو ساز اداروں نے پروفیسر ناکاموٹو کے کام میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے |
پروفیسر ناکاموٹو کا کہنا ہے کہ ان ky کوشش ہے کہ وہ دنیا myz اب پیدا ہونے والی تمام تر خوشبوئیں پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیں اور اس کے لیے انہوں نے دو طریقے اختیار کیے ہیں ایک تو یہ کہ خوشبو کو محسوس کیا جائے اور دوئم یہ کہ اسے پھر سے پیدا کیا جا سکے۔
اب تک انہوں نے صرف سیب، کیلے، نارنجی اور لیموں کی مہک بنانے پر دسترس حاصل کی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی اربوں طرح کی خوشبوئیں اور بد بوئیں ہیں جن کے جوہر اور عناصرِ ترکیبی کا تجزیہ کر کے انہیں ایک ایسے فارمولے کی شکل دینا ہے جو کمپیوٹر کے ذریعے کام کر سکے۔
اس سلسلے میں پروفیسر ناکاموٹو کی ٹیم یہ کر رہی ہے کہ مختلف چیزوں کی مہک کو مشین کے ذریعے کشید کرتی ہے اور پھر مختلف کیمیائی مادوں میں اس کے جوہر کے ہم آہنگ عنصر تلاش کرتی ہے اور پھر ان کو دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
ٹی وی اور ڈی وی ڈی |
اگر پروفیسر ناکاموٹو نے کامیابی حاصل کر لی تو کیا ہوگا۔ سب سے پہلے تو یہ ہو گا کے خوشبو سازی کی صنعت میں ایک انقلاب آ جائے گا۔ اس وقت اس صنعت میں ایسے ماہرین ہیں جو خوشبوؤں کے معیار کے لیے اپنی ناک پر انحصار کرتے ہیں لیکن اس مشین کے ایجاد کے بعد ایک زیادہ قابلِ اعتماد ذریعہ میسر آ جائے گا۔
جاپان کے کئی خوشبو ساز اداروں نے پروفیسر ناکاموٹو کے کام میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو گی۔ امکان یہ بھی ہے کہ یہ کام کمپیوٹر کریں گے اور گھروں کو ہر طرح کی خوشبوؤں سے مہکایا جا سکے گا۔
یہ توقع کی جا سکتی ہے کسی دن خوشبو بکھیرنے والے ٹیلیویژن بھی ملیں یا ڈی وی ڈی بھی دستیاب ہو جائیں۔