Wednesday, 20 September, 2006, 17:40 GMT 22:40 PST
ریبا شاہد
کراچی
اپنی صلاحتوں اور کاوشوں کا سراہا جانا کسے اچھا نہیں لگتا۔ دنیا بھر میں منعقد کردہ مختلف نوعیت کی ایوارڈ تقریبات کا مقصد بھی اچھی کارکردگی کی حوصلہ افزائی کرنا اور مثبت مقابلوں کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے حال ہی میں پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے زیرانتظام سالانہ کانفرنس اور انفارمیشن کمونیکیشن ٹیکنا لوجی (آئی سی ٹی) ایوارڈ کی تقریب منقدکی گئی۔
پاکستان سافٹ ویئر انڈسٹری کی اس نمائندہ تنظیم کا قیام انیس سو بانوے کےاواخر میں ہوا۔ ابتدا میں یہ صرف نو سافٹ ویئرہاؤسز پر مشتمل تھی مگر یہ تعداد اب بڑھ کر دو سوپچھتر ہو چکی ہے۔
’پاشا آئی سی ٹی ایوارڈ‘ کی ابتدا (جنہیں پاکستان آئی ٹي انڈسٹری کے آ سکر ایوارڈ سے تشبہیہ دی جاتی ہے ) دو سال قبل ہوئی۔ اس ایوارڈ کا مقصد مقامی سافٹ ویئرصنعت کی مصنوعات کی قدر افزائی کرنا ہے۔
گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ایوارڈز میں صحت، اقتصادیات، مواصلات، ای گورنمنٹ، ذرائع ابلاغ اور تفریح ، تعلیم، سکیورٹی، عمومی استعمال کے سافٹ ویئراپلیکیشن اور یونیورسٹی کی سطح پر طلبہ کے سافٹ ویئر پروجکٹس پر مشتمل شعبوں میں بہترین کارکردگی پر ایوادڑ دیئےگئے۔
ان کےعلاوہ اس سال کی تقریب میں چار نۓ شعبوں کا اضافہ بھی کیا گیا جن میں `آئی ٹی کے حوالے سے بہترین برانڈ ڈیولپمنٹ`، بہترین آئی ٹی آجر(Best IT/ITES employer)، کمپنی کی آمدنی میں اضافے کے حوالہ سے بہترین کارکردگی اور (best revenue growth) ، اور (ICT for special needs) یعنی آئی ٹی کے ذریعے جسمانی اور ذہنی معذوری کا ازالہ کرنے والی مصنوعات شامل ہیں۔
ویسے تو اس سال پاشا کے ایواڈز کے لیے انیس شعبوں کے لیے پچھہتر مقامی سافٹ ویئر مصنوعات کی نامزدگیاں پیش کی گئی تھیں۔ تاہم پاشا کی صدر جہاں آراء کے مطابق جانج پڑتال کے بعد ان میں سے صرف تیرہ شعبوں میں پیش کی جانے والی مصنوعات معیار کے مطابق پائی گئيں لہذا آخر میں ایوارڈز کے لیےصرف ان مخصوص شعبوں کا انتخاب کیاگیا۔
![]() | |
| ایوارڈز میں نئے شعبوں کی شمولیت کا مقصد مقامی کمپنیوں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانا ہے: جہاں آراء |
(IT for special needs) یعنی آئی ٹی کے ذریعے جسمانی اور ذہنی معذوری کے ازالہ کے لیے ایوارڈ شامل کرنے کے پس پشت محرکات بیان کرتے ہوئے جہاں آرا نے بتایا کہ ’گزشتہ سال پاشا نے آٹھ اکتوبر کے زلزلہ کے متاثرین کی آبادکاری کے لیے ٹیکنالوجی کے کردار پر غور وخوص شروع کیا۔ اس دوران ٹیلی میڈیسن اور آئی ٹی کے حوالے سے اس طرح کی اور کاوشیں سامنے آئیں ۔ اس کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ کام یہاں رکنا نہیں چاہئیے اور ان کوششوں کی پزیرائی کی ضرورت ہے۔ اس سوچ کے تحط اس سال اس نئے شعبہ کو شامل کیا گیا ہے۔‘
اس حوالہ سے جو دلچسپ بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی آئی ٹی کمپنی کی جانب سے اس شعبہ کے لیے نامزدگی پیش نہیں کی گئیں۔ اس کے برعکس تمام نامزدگیاں یونیورسٹی کے طلبہ کے بنائے ہوئے پروجیکٹس کی صورت میں آئیں۔اس مرتبہ کے ایوارڈ سرسید یونیورسٹی آف انجینرنگ کے طالبعلموں نےجیتے۔
ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں چندایک ایسی کمپنیاں بھی تھیں جنہوں نے گزشتہ سال بھی پاشا آئی سی ٹی ایوارڈ حاصل کیا تھا مگر ایک بات جو تمام ایوارڈ حاصل کرنے والی مصنوعات میں مشترک تھی وہ ’میڈ ان پاکستان‘ کا لیبل تھا۔
کانفرنس کے دوران مباحثوں میں مقامی آئی ٹی صنعت کے حوالہ سے مختلف موضوعات زیر بحث آئے جن میں آئی ٹی کمپنیوں کے لیے افرادی قوت کی افزائش کے ساتھ ترقیاتی نظریات میں ہم آہنگی کی اہمیت، آئی ٹی کے منصوبوں پر عملدرآمد میں درپیش چیلنجوں اوربہترین حکمت عملی، آئی ٹی کے کاروبار کے لیے وینچر کیپیٹل کے کردار اور براڈبینڈ انٹرنیٹ کی ترسیل کی اہمیت شامل تھے۔
پاشا آئی سی ٹی ایوارڈ یافتہ سافٹ ویئرمصنوعات اب ایشیا پسیفک آئی سی ٹی ایوارڈ کنسورشیم (APICTA ) میں پاکستان کی نامزدگی کے طور پر پیش کی جائیں گی جو کہ چین کے شہر مکاؤ میں نومبر 2006 میں منعقد ہو گا۔