http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 06 September, 2006, 12:25 GMT 17:25 PST

ٹی بی کی ناقابلِ علاج قسم

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ٹی بی کی ایک ’ناقابلِ علاج‘ قسم دیکھنے میں آئی ہے۔

ٹی بی کی اس نئی قسم کو دوا کی انتہائی مزاحمت کرنے والی ٹی بی کہا جاتا ہے اور یہ امریکہ، مشرقی یورپ، افریقہ کے ساتھ تقریبا پوری دنیا میں دیکھی گئی ہے۔ لیکن مغربی یورپ میں ابھی تک اس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈاکٹر پال نون کا کہنا ہے ٹی بی کی اس قسم کے سامنے آنے کی وجہ علاج کے لیے مناسب حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔

اس بیماری کے مقابلے کے لیے حکمت ِ عملی تیار کرنے کے لیے ٹی بی کے ماہرین نے جوہانسبرگ اور جنوبی افریقی میں ملاقات کی ہے۔

ٹی بی سے ہر سال پوری دنیا میں سترہ لاکھ افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن اب محقیقین اس بات سے پریشان ہیں ٹی بی کی یہ نئی قسم دوا کے خلاف شدید مزاحمت کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کثیر ادویہ مزاحمت ٹی بی یعنی کہ ایسا ٹی بی جو کے ٹی بی کے علاج کے لیے بنائی گئی موجودہ فرسٹ لائن ادویات سے ناقابلِ علاج ہے ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اندازے کے مطابق ہر سال چار لاکھ پچیس ہزار افراد کثیر ادویات مزاحمت ٹی بی کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں زیادہ تر کا تعلق روس، چین اور انڈیا سے ہے ۔

اس بیماری کے علاج کے لیے سیکنڈ لائن ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ زیادہ زہریلی ، مہنگی اور زیادہ دیر میں اپنا اثر دکھاتی ہیں۔

لیکن اب ماہرین کے مطابق بیکٹریا کی زیادہ قاتل قسم سامنے آئی ہے۔ اور ڈاکٹر پال نون کا کہنا ہے کہ اس سے ایچ آئی وی کے پازیٹو مریضوں کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

جنوبی افریقہ میں خواہزولو ناتال کے علاقے میں 53 مریض کثیر ادویہ مزاحمت ٹی بی کا شکار تھے اور ان میں سے 52 مریضوں کی موت پچیس دنوں کے اندر ہو گئی۔ ان 53 مریضوں میں سے 44 ایسے تھے جو کہ ایچ آئی وی پازٹیو بھی تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرنی ہو گی کہ مریض کا مکمل خیال رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ اپنی دوا کا کورس پوری طرح مکمل کرے‘۔

ڈاکٹر پال نے کہا ہے کہ ’اگر آپ اس بات پر عمل کرتے ہیں تو ایچ آئی وی ہونے کے باوجود ٹی بی کے بیکٹریا کی مزاحمت میں ڈرامائی طور پر کمی ہو جاتی ہے‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مستقبل میں اس بیماری کے علاج کے لیے مزید ادویہ بنائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مزید کام ہو رہا ہے جس میں ٹی بی سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی تیاری بھی شامل ہے۔