Saturday, 19 August, 2006, 12:11 GMT 17:11 PST
تین کنزرویشن گروپ اور چار حکومتی ایجنسیوں کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں فارم لینڈ پرندوں کی نسل ختم ہو رہی ہے۔
1995 میں پرندوں کی چھبیس نسلوں کو خاتمے کے قریب قرار دے کر انھیں بچانے کے لیئے کوششیں شروع کر دی گئیں تھیں۔ جس کے نتیجے میں ان پرندوں کی نو نسلوں کو بچا لیا گیا ہے۔
رپورٹ مرتب کرنے والوں میں سے ایک تنظیم آر ایس پی بی کے ڈائریکٹر مارٹن ایوری کے مطابق آر ایس پی بی اور اس جیسی دوسری مقامی کمپنیوں کی کوششوں سے کچھ مقامی پرندوں کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔
مگر اصل پریشانی فارم لینڈ کے پرندوں کی ہے جنھیں تحفظ گاہوں کے علاوہ بھی ہر جگہ پر نظر آنا چاہیے۔ ان پرندوں میں سکائی لارک، ٹری سپیرو، کارن بنٹنگ اور ییلو ہیمر شامل ہیں۔
حکومت نے 1995 میں ان پرندوں کو ترجیحی بنیادوں رکھ لیا جن کی تعداد پچھلے پچیس برسوں میں آدھی رہ گئ تھی۔ اور 2010 تک ان پرندوں کی افزائش کو بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔
بائیوڈیورسٹی ایکشن پلان کے مطابق پرندوں کی ان چھبیس نسلوں کو خاص توجہ دی گئی تھی۔ان چھبیس میں سے دس نسلوں کو برطانیہ کے دوسرے حصوں میں پھیلانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ان دس میں تھرش بھی شامل ہے اور ٹی سپیرو کی افزائش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اتنی توجہ اور خیال کے باوجود سات نسلیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں جن میں سکائی لارک، گرے پیٹرج، ٹتٹل ڈو اور بل فنچ جیسے پرندے بھی شامل ہیں۔
کچھ نسلیں جیسا کہ بٹن، ووڈ لارک اور نائٹ جار کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
پورے برطانیہ میں پائے جانے والے پرندے سرل بنٹنگ، کارن کریک اور سٹون کرلیو کی افزائش میں بھی بہتری آئی ہے۔مگر کچھ تیزی سے ختم ہونے والے پرندوں کی افزائش میں ابھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور وہ اب تک خطرے کی حد میں ہیں۔
انگلش نیچر کے ڈاکٹر فل گرائس کا کہنا ہے کہ ان پرندوں کو بچانے کے لئے ہمدردی اور توجہ تحفظ گاہوں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی چاہئیے تا کہ ان کی نسل کو بڑھایا جا سکے۔
اب برطانیہ کی کئی اگری اینوائرمینٹ سکیموں میں سکائی لارک اور گرے پیٹرج جیسے پرندوں کو بچانے کا مقصد بھی شامل ہے۔
رپورٹ مرتب کی گئی کمپنیوں میں آر ایس بی، دا برٹش ٹرسٹ فار آرنیتھالوجی، دا وائلڈ لائف اینڈ ویٹ لینڈ ٹرسٹ، دا کنٹری سائڈ کونسل فار ویلز، انگلش نیچر، اینوائرمنٹ، ہیریٹیج سروس اور سکاٹش نیچرل ہیریٹیج اینڈ برڈ واچ شامل ہیں۔