Sunday, 13 August, 2006, 09:23 GMT 14:23 PST
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چین کی ایک روایتی دوا، ذیا بیطس کے مریضوں کے لیئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔
چین کی روایات اور قدیم طریقہ علاج میں ذیا بیطس کے مریضوں کے لیئے باربرین نامی مادے کا استعمال کیا جاتا ہے جو کئی پودوں کی جڑوں اور ٹہنیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ مادہ جسم میں گلو کوز کی سطح کو کم کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے اب اس مادے کا استعمال چوہوں پر کیا ہے جو کافی موثر ثابت ہوا ہے۔
ماہرین ڈائی بیٹیز جریدے میں لکھتے ہیں کہ باربرین سے چوہوں کا وزن بھی کم ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مادہ موٹاپے سے نمٹنے کے لیئے بھی سود مند ہوسکتا ہے۔
مختلف ثقافتوں میں اس مادے کا استعمال مختلف بیماریوں کے علاج کے لیئے ہوتا رہا ہے مثلاً ہیضہ تاہم چین میں اس کا خاص استعمال شوگر کے مریضوں کے لیئے کیا جاتا ہے۔
آسٹریلیا کے گارون انسٹیٹیوٹ میں ذیا بیطس کے شعبہ کے سربراہ پروفیسر ڈیوڈ جیمز کا کہنا ہے کہ ہم ’ٹائپ ٹو ڈائی بیٹیز‘ کے مریضوں کے علاج پر غور کررہے ہیں کیونکہ ٹائپ ٹو شوگر جسم میں انسولین کے نظام کی خرابی سے ہوتی ہے اور اس سے جسم میں شوگر کی سطح بہت کم یا زیادہ ہوجاتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق باربرین جسم میں انسولین کو منظم کرتی ہے۔ تاہم حتمی طور پر یہ جاننے کے لیئے ابھی مزید تحقیق کی جارہی ہے۔