http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 04 August, 2006, 06:21 GMT 11:21 PST

ریبا شاہد
کراچی

پاکستان کا پہلا نجی انٹرنیٹ کیبل

حال ہی میں پاکستان کے پہلے نجی زیر آب فائبر آپٹک انٹرنیٹ کیبل نیٹ ورک ’ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس ـ ون‘ کا افتتاح کیا گیا۔

یہ ایک ہزار دو سو پچاس کلومیٹر طویل زیرِ آب کیبل فجیرہ ( متحدہ عرب امارات) اور السیب (عمان) سے گزرتا ہوا کراچی (پاکستان) تک آتا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز نومبر دو ہزار پانچ میں کیا گیا تھا اور یہ کیبل نیٹ ورک ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی زیر نگرانی تعمیر کیا گیا ہے۔پچاس ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہو نے والا یہ انٹرنیٹ کیبل نیٹ ورک ’ڈینس ویو لینتھ ڈویژن ملٹی پلکسنگ‘ (ڈی ڈبل یو ڈی ایم) نظام کے تحت کام کر تا ہے اور 28۔1 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ـ

ٹی ڈبل یو ون کیبل کے افتتاحی تقریب میں ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایشن کے صدر اور چیف آپریٹنگ آفیسر کامران ملک نے کہا کہ’ انٹرنیٹ کیبل کا یہ نظام ملک کا اہم قومی اثاثہ ہے۔ یہ کیبل پاکستان کی انٹرنیشنل کنکٹیوٹی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کر نے کے ساتھ ساتھ ملک میں کارفرما دوسرے انٹرنیٹ کیبلز کی موجودگی میں ایک متبادل بین الاقوامی انٹرٹیٹ لنک فراہم کرتا ہے‘۔

ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس پرائیویٹ لمیٹڈ ، اورس کام ٹیلی کام (مصر)، صیف گروپ (پاکستان) اور امزیسٹ گروپ (عمان ) کا مشترکہ منصوبہ ہے ـ اس کیبل کے فجیرہ اور السیب میں موجود لینڈنگ اسٹیشن کی دیکھ بھال اور متحدہ عرب امارات اور عمان کے دیگر انٹرنیٹ کیبلز سے کنکشن قائم کرنا مقامی ٹیلی مواصلاتی کمپنیاں ایتیصلات اور عمان ٹیل کی ذمہ داری ہوگی۔ ’ٹی ڈبلیو ون‘ کیبل کا ایک لینڈنگ اسٹیشن کراچی میں ہاکس بے پر بھی قائم کیا گیا ہے ـ

ٹی ڈبلیو ون کیبل کے ذریعے ای ون، ڈی ایس تھری ، ایس ٹی ایم ون اور ایس ٹی ایم ون فور کی بینڈ وڈتھ کم مدت کے لیئے اور کیبل کی کل میعاد کے لیئے بھی ٹھیکے پر دستیاب ہوگی۔

ٹی ڈبلیو ون کیبل سے قبل پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے دو بین الاقوامی انٹرٹیٹ لنک سی می وی تھری اور سی می وی فور موجود تھے جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ کے زیرِاختیار ہیں۔