http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 19 July, 2006, 06:04 GMT 11:04 PST

لورا سمتھ سپارک
بی بی سی نیوز

سونامی وارننگ سسٹم پر سوال

بحر ہند میں تباہ کن سونامی کے صرف اٹھارہ ماہ بعد جاوا کے جزیرے پر ایسی ہی ایک بڑی سمندری لہر سے سینکڑوں لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سونامی سے قبل انہیں اس بارے میں واضح طور پر خبردار نہیں کیا گیا تھا۔

ان حالیہ ہلاکتوں سے بحر ہند کے لیئے سونامی سے مطلع کرنے کے نظام پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں جس کے بارے میں دعوٰی کیا گیا تھا کہ وہ سونامی سے قبل از وقت آگاہ کردے گا۔

پیر کو جاوا کے جزیرے پر اٹھنے والی سونامی کی لہروں نے 500 زندگیاں نگل لیں جبکہ 140 افراد اب تک لاپتہ ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سمندر کی تہہ میں آنے والے زلزلے نے دو دو میٹر اونچی لہریں پیدا کی تھیں جن کے بارے میں لوگوں کو قبل از وقت آگاہ نہیں کیا گیا اور وہ زندگیاں بچانے کے لیئے کوئی حفاظتی اقدام نہ کرسکے۔

جاوا میں ایک متاثرہ گاؤں کی رہائشی ایلن جایالانی کا کہنا ہے کہ ’جو تھوڑی بہت وارننگ دی گئی اس کے بارے میں بھی ابہام تھا‘۔

’ہمیں کہا گیا کہ زلزلہ آیا ہے اور دو روز تک سونامی کا خدشہ ہے لیکن یہ تو اس سے بہت پہلے ہوگیا‘۔

دسمبر 2004 کے شدید ترین سونامی کے بعد بحر ہند کے لیئے ایک ’ارلی وارننگ سسٹم‘ نصب کیا گیا تھا جس نے اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس سے کام کرنا شروع کردیا تھا۔ 2004 میں سونامی سے دو لاکھ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

انڈونیشیا میں زلزلہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مانیٹرنگ نظام میں کچھ نقائص کی نشاندہی کی گئی ہے اور چند مواصلاتی مسائل بھی ہیں۔

اس شعبہ کی ایک ماہر فوزی کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام زلزلہ آنے کے بعد 60 منٹ تک ڈیٹا موصول کرسکتا ہے جس کے بعد وارننگ جاری کرنا ممکن ہوتا ہے لیکن پیر کے زلزلے اور اس کے بعد اٹھنے والی لہروں کے بیچ صرف 20 منٹ کا وقفہ تھا اس لیئے لوگوں کو مطلع نہیں کیا جاسکا۔

تاہم اس سسٹم کوبہتر بنانے کے لیئے کام شروع کیا جاچکا ہے۔