Tuesday, 27 June, 2006, 07:41 GMT 12:41 PST
تحقیق کے مطابق ایکسرے ان خواتین میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ بڑھا دیتا ہے جن میں اس کے امکانات مخصوص جینز کی وجہ سے زیادہ ہوں۔
سولہ سو خواتین پر کی گئی اس تحقیق کے نتیجے میں یہ پتہ چلا ہے کہ ’بی آر سی اے 1 اور 2 جینز‘ کی حامل خواتین میں ایکسرے کے اثرات نمایاں ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق بیس سال سے کم عمر کی خواتین میں یہ خدشہ بہت زیادہ ہے۔
یہ تحقیق ’جرنل آف کلینیکل آنکولوجی‘ میں شائع کی گئی جو فرانس میں ’انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر‘ کے تحت کی گئی۔
تحقیقی ٹیم کی رکن ڈاکٹر ڈیوڈ گولڈگار نے کہا کہ ’یہ پہلی تحقیق ہے جو یہ ثابت کر رہی ہے کہ جو خواتین موروثی طور پر کینسر کا زیادہ خطرہ رکھتی ہیں وہ دوسروں کی نسبت تابکاری کا زیادہ شکار ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے تو اس موروثی بیماری کی حامل خواتین ایکسرے کے متبادل پر غور کر سکتی ہیں جس میں ایم آر آئی بھی شامل ہے‘۔
تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن خواتین میں ’بی آر سی اے 1 اور 2‘ جینز پائے جاتے ہیں ان میں ایکسرے کے بعد کینسر کا خطرہ 54 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ بیس سال کی عمر سے پہلے ایکسرے کروانے والی خواتین میں چالیس سال کی عمر سے پہلے کینسر کے امکانات ڈھائی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر ڈیوڈ کے مطابق بی آر سی اے پروٹین خلیوں کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ایسی صورتحال میں جب کہ یہ جینز ٹھیک نہ ہوں تو ایکسرے سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جانا مشکل ہو جاتا ہے۔
تاہم ایسی خواتین میں ایکسرے کے باوجود کینسر نہ ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔ برطانیہ میں غیر سرکاری تنظیم ’کینسر ریسرچ‘ کی ڈاکٹر لارا جین کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ یہ نتائج دلچسپ ہیں تاہم ابھی یہ حتمی نہیں ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’بی آر سی اے جینز کی حامل خواتین میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے لیکن ابھی یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں ایکسرے کا کتنا کردار ہے اور اس کے لیئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے‘۔
ڈاکٹر ایما پینری کا کہنا ہے کہ ’یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ نوے فیصد خواتین میں چھاتی کا سرطان موروثی وجوہات کی بنا پر نہیں ہوتا اور زیادہ تر خواتین کو ایکسرے کی ضرورت پڑ جاتی ہے‘۔
ڈاکٹر سارا راؤلنگ نے کہا کہ ’برطانیہ میں ہر سال اکتالیس ہزار خواتین چھاتی کے سرطان کا شکار ہوتی ہیں جن میں سے پانچ فیصد موروثی وجوہات یعنی بی آر سی اے جینز کی وجہ سے کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کینسر کی بروقت تشخیص کے لیئے بھی ایکسرے کی ضرورت ہوتی ہے‘۔
بریسٹ کینسر کمپین کی آرلین ولکی نے کہا کہ ’اس سلسلے میں کسی ہدایت کو جاری کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس پہلو کا ماضی کی بجائے مستقبل میں مزید مطالعہ کیا جائے‘۔