Thursday, 22 June, 2006, 20:02 GMT 01:02 PST
ریبا شاہد
کراچی
ستر کی عشرے میں ' روٹی کپڑا اور مکان' کے نعرے نے ذوالفقار علی بھٹو کو عوام میں مقبولیت دلائی۔ دو ہزار کی دہائی میں وفاقی وزراء برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ملک میں آئی ٹی کی صنعت اور انٹرنیٹ کے فروغ دینے کے لیے اپنی مخلصی ظاہر کر نے کے لیے پہلے اس نعرے کو ’روٹی، کپڑا اور انٹرنیٹ‘ اور پھر ’روٹی، کپڑا اور براڈبینڈ‘ میں تبدیل کر کے پیش کیا۔
ان نعروں کے پس پشت کارفرما محرکات جو بھی ہوں مگر ان کی عملی تشریح اب تک غیر تسلی بخش رہی ہے اور عوام آج بھی اپنی مدد آپ کے تحت اپنی ضروریات اور مسائل کا حل تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ انٹرنیٹ کے حوالہ سے اس کی ایک مثال کیبل انٹرنیٹ نیٹ ورکس کی صورت میں نظر آتی ہے۔
دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں براڈبینڈ اور ڈی ایس ایل کی صورت میں تیز رفتار اور متواتر چلنے والی انٹرنیٹ سروس کی موجودگی ایک عام سی بات ہے۔ سن دو ہزار چار میں پاکستان کی براڈبینڈ پالیسی مرتب کی گئی مگر عملی طور پر ملک میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی ترسیل محدود ہے۔ آئی ٹی کی صنعت سے منسوب مختلف افراد اس کی وجہ ملک میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کے نرخوں کی زیادتی اوراس کی ترسیل کے لیے درکار تکنیکی ڈھانچہ کا غیرموجود یا پھر غیر تسلی بخش ہونے کو ٹھہراتے ہیں۔ ان رکاوٹوں کی موجودگی نے کیبل انٹرنیٹ کے صورت میں کم خرچ اورڈائل اپ کی بنسبت تیزفتار اور متواتر چلنے والی انٹرنیٹ سروس کے لیے راہ ہموار کی ہے۔
تین میگا بائیٹ بینڈوڈتھ کی سروس |
اپنے مخصوص تکنیکی نظام کی وجہ سے یہ کیبل انٹرنیٹ نیٹ ورکس انٹرٹیٹ کی ترسیل کے ساتھ ساتھ تفریح اور SOCIAL INTERACTION کا منفرد ذریعہ بھی بن گئے ہیں۔ گذشتہ سات سال سے کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں فاریہ کیبل نیٹ چلانے والے کامران ملک کے مطابق ان کے کیبل نیٹ ورک پر انٹر نیٹ کے علاوہ سافٹ ویر، فلمیں، ایم پی تھری کی فائلیں ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہوتی ہیں اور صارفین وائ پریس نامی ایک چیٹنگ سافٹ ویر کے ذریعے آپس میں چیٹ بھی کر سکتے ہیں۔ یوں پندرہ سو صارفین پر مبنی اس کیبل نیٹ ورک میں ایسے پڑوسی بھی موجود ہیں جو شاید ایک دوسرے سے ویسے متعارف نہ ہوں مگر ان کا آن لائن رابطہ تو ہوتاہی ہے۔
منفی پہلو |
ان خامیوں کے باوجود کیبل انٹرنیٹ کی مقبولیت برقرار ہے۔ دانش مصطفی کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں اور گزشتہ ایک سال سے کیبل انٹریٹ استعمال کر رہے ہیں۔ دانش کے مطابق ’چھ سو روپے ماہوار میں پچیس سے لے کر دو سو کلو بائٹس فی سکنڈ تک کی رفتار سے چلنے والا ایک متواتر انٹر نیٹ کنکشن مل گیا ہے۔ کیبل انٹرٹیٹ کی بدولت ٹیلی فون مصروف نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے میں کافی سہولت ہو گئی ہے۔ لوکل ایریا نیٹ ورک ہو نے کی وجہ سے ایم ایس این کے ذریعے بھی صارفین آپس میں سافٹ ویر، فلمیں اور گانوں کی بڑی بڑی فائلوں کو محض چند سکینڈ میں منتقل کر سکتے ہیں‘۔
واضح رہے کہ تاحال یہ کیبل انٹرنیٹ کسی قسم کے حکومتی قواعد و ضوابط کے پابند نہیں ہیں اورعموما سروس کے معیار کا انحصار علاقے، صارفین کی تعداد، کیبل نیٹ سروس فراہم کر نے والوں کی نیت اور مہارت پرہو تا ہے۔ تاہم ملک میں انٹر نیٹ کے عادی افراد کی تعداد بڑھانے میں کیبل انٹر نیٹ نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔