Thursday, 22 June, 2006, 12:27 GMT 17:27 PST
ایک ایسا آلہ ایجاد کیا گیا ہے جس کے ذریعے آدھے سر میں درد یا مائیگرین سے سے چھٹکارہ مل سکے گا تاہم محققین کا کہنا ہے کہ درد کو شروع ہونے سے پہلے ختم کر سکنے والے اس آلے استعمال کیے جانے سے پہلے اس آلے کی مزید آزمائش کی جانی چاہیئے۔
سر میں درد کے ماہرین کی امریکی سوسائٹی کے اجلاس کے دوران محققین نے بتایا ہے کہ اس آلے کے ذریعے متلی اور شور سے متاثر ہونے والے حساس لوگوں کا علاج ہو سکے۔
جن لوگوں کو مائیگرین یا آدھے سر میں درد ہوتا ہے وہ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ انہیں ستارے سے ٹوٹ کر گرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں یا روشنی کی آڑی ترچھی لکیریں دکھائی دیتی ہیں یا بینائی متاثر ہوتی ہے، کمزوری محسوس ہوتی ہے یا جھنجھلاہٹ اور ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ جیسے کچھ سمجھ نہ آ رہا ہو۔
یہ وہ اشارے ہیں جو مائیگرین یا آدھے سر میں درد کے دوران یا شروع ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
ٹی ایم ایس کا نام پانے والا مذکور آلہ ایک دھاتی کوائل یا مسلسل گھومتے ہوئے دھاتی تار کے ذریعے ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے برابر وقت کے لیے انتہائی طاقتور برقی مقناطیسی فضا پیدا کرے گا اور اس سے پہلے کہ درد باقاعدہ شکل اختیار کرے درد کے تسلسل کو منقطع کر دے گا۔
اب تک سر میں ہونے والے اس درد کا علاج درد کو دبانے والی گولیوں یا ’ٹریپٹین‘ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
درد کی گولیان عام طور پر درد کے آثار کی بجائے درد کے اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اب تک اس آلے کے ذریعے جن 23 لوگوں کا علاج کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان میں سے انہتر فی صد لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا درد یا تو مکمل طور پر ختم ہو گیا یا اس میں بڑی حد تک کمی ہوئی۔ جب کہ 42 فیصد نے اس علاج کو انہائی اچھا قرار دیا۔
اس بارے میں اوہائیو یونیورسٹی کے ڈاکٹر یوسف محمد کا کہنا ہے کہ ’اس آلے کے کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے‘۔
اس اس آلے کو مریضوں کی بڑی تعداد پر آزمایا جائے گا اور مائگرین ایکشن ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر ایم ٹرنر کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں تاہم اسے عام کرنے سے پہلے وسیع پیمانے پر تجربات کیے جانے چاہیں کیونکہ مریضوں کو اس کے استعمال کی عادت پڑ سکتی ہے‘۔