Wednesday, 21 June, 2006, 16:15 GMT 21:15 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز صوبہ سندھ کے انسپیکٹر جنرل پولیس یعنی آئی جی، کو ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر میں پولیس اور جاگیرداروں کے نجی ’ٹارچر سیل‘ ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں
نعیم آرائیں نے چیف جسٹس کو ایک درخواست میں بتایا تھا کہ انہیں پولیس اہلکاروں نے اپنے نجی ٹارچر سیل میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ عدالت نے از خود کارروائی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔
بدھ کے روز صوبہ سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل قاضی خالد اور ڈی آئی جی میرپورخاں سلیم اللہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ چار پولیس انسپیکٹرز کو ملازمت سے برطرف کر کے ان پر مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
اُس دوران نعیم آرائیں بھی عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار پولیس اہلکار ان کی خواتین کو اغواء کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
چار پولیس انسپیکٹروں کی برطرفی |
عدالت نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ وہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر صوبے میں قائم پولیس اور جاگیرداروں کے نجی جیلوں کا پتہ لگائیں اور انہیں ختم کر کے عدالت کو رپورٹ پیش کریں۔
عدالت نے بعد میں نعیم آرائیں کے معاملے میں از خود کارروائی کا معاملہ نمٹا دیا۔
دریں اثنا سپریم کورٹ نے منوں بھیل کے اہل خانہ کے اغوا کے مقدمے کی بھی سماعت کی اور مبینہ اغوا میں ملوث زمیندار عبدالرحمٰن مری کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مؤ کل کو پیر چھبیس جون کو عدالت میں پیش کریں۔
واضح رہے کہ منو بھیل صوبہ سندھ کے ایک کسان ہیں اور ان کے خاندان کے سات افراد اور ان کے ایک مہمان کو اپریل انیس سو اٹھانوے میں اغوا کرلیا گیا تھا۔
جنوری سن دوہزار تین سے حیدرآباد سندھ کے پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر کھیت مزدور منو بھیل تاحال احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ اس عرصے میں حکومت، عدالتوں اور انسانی حقوق کے بیشتر فورمز پر بھی گئے لیکن تاحال انہیں انصاف نہیں ملا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سوئیڈن کے ایک شہری توبوروگ اساکسن کی شکایت پر از خود کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے کا نوٹس لیا تھا۔