Friday, 09 June, 2006, 11:28 GMT 16:28 PST
امریکہ میں سرویکل کینسر کی پہلی دوا کی تیاری کا لائسنس جاری کر دیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں ہر سال دو لاکھ نوّے ہزار خواتین اس کینسر سے ہلاک ہو جاتی ہیں۔
گریڈاسل نامی اس نئی دوا کو نو سے چھبیس سال کی عمر کی بچیوں اور خواتین کے لیئے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس کے چھ ماہ کے کورس کی قیمت قریباً تین سو ساٹھ امریکی ڈالر ہے اور یہ آئندہ چند ہفتوں میں بازار میں دستیاب ہوگی۔
اس دوا کوامریکی ادارے’ایف ڈی اے ‘نے چھ ماہ کی طبی تحقیق کے بعد منظور کیا ہے جس کے دوران دنیا بھر کی اکیس ہزار خواتین پر اس دوا کا تجربہ کیا گیا۔ ان تجربات سے یہ سامنے آیا کہ گریڈاسل ’ایچ پی وی‘ سے بچاؤ میں ’قریباً سو فیصد مؤثر‘ ہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دوا ’ایچ پی وی‘ کی چار بنیادی اقسام کے خلاف مؤثر ہے۔
ایچ پی وی انفیکشن ہی ستّر فیصد مریضوں میں سرویکل کینسر کا سبب بنتا ہے جو کہ چھاتی کے سرطان کے بعد دنیا میں خواتین میں پایا جانے والا سب سے عام سرطان ہے۔
امریکہ کے نائب سیکرٹری صحت کا کہنا ہے کہ’خوش قسمتی سے اب ہم سرویکل کینسر کو ان بیماریوں کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں جن سے اب کوئی نہیں مرے گا‘۔
قائم مقام امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریٹو کمشنر اینڈریو وان کا کہنا ہے کہ’اس ویکسین کی تیاری خواتین کی صحت کے بچاؤ کے عمل میں ایک قابلِ ذکر قدم ہے‘۔ تاہم امریکہ کے قدامت پسندگروہوں کا کہنا ہے کہ بلوغت سے قبل بچیوں کے علاج سے وہ جنس کی جانب زیادہ راغب ہو جائیں گی۔