Friday, 28 April, 2006, 10:10 GMT 15:10 PST
چین کے ایک تحقیقی ادارے خطرناک نے ایک پانڈا کو پالنے کے بعد پہلی دفعہ جنگل میں کھلا چھوڑ دیا ہے۔
پانچ سالہ زیانگ زیانگ کو پانڈہ ریسرچ انسٹیٹوٹ نےجنگل میں چھوڑا۔ تحقیق کاروں نے جنگل میں چھوڑے جانے والے پانڈے کے ساتھ ایسے آلات لگائے گئے ہیں جن سے اس کی پوزیشن کے بارے آسانی سے پتہ چلایا جا سکے گے۔
پانڈا کی نسل خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے اور سرکاری سطح پر اس کو بحال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔اس وقت دنیا میں صرف سولہ سو پانڈے موجود ہیں۔
زیانگ زیانگ کو جس کا وزن اسی کلوگرام ہے، جنگل میں زندہ رہنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس کو تین سال سے کاٹنے اور غرانے کی تربیت دی جا رہی تھی۔
تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر ژانگ ہیمن نے کہا ہے کہ پانڈا کو خوراک کے حصول اور اپنی حدود کے تعین اور اس کی حدود میں داخل ہونے والے جانوروں سے لڑنے کی بھی تربیت بھی دی گئی ہے۔
پانڈا کو ایسے وقت میں جنگل میں چھوڑا گیا جب بانس کے درخت ہرے ہو چکے ہیں اورپانڈا کو خوراک کے حصول میں زیادہ دشواری نہیں ہو گی۔
بانس کے پتے پانڈا کی مرغوب غذا ہے۔