Tuesday, 25 April, 2006, 10:01 GMT 15:01 PST
اوون بینیلاک
کمپیوٹر گیمز بڑے عرصے سے ان تنقید کاروں کا نشانہ بنتے رہے ہیں جن کا خیال ہے کہ یہ محض وقت کا زیاں اور دماغ کا غیر ضروری استعمال ہے۔
تاہم ایک نئی طرز کے کمپیوٹر گیمز نے اس خیال کو غلط ثابت کردیا ہے۔نائنٹنڈو کمپیوٹر گیمز کی سیریز ایک سال قبل جاپان میں شروع کی گئی تھی اور ایک ہی سال میں اس کی پانچ ملین سے زائد کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔
اس سیریز میں جدید ترین گیم ہے ’ڈاکٹر کواہشماز برین ٹریننگ‘۔ اس گیم میں کھیلنے والے کو دماغی تربیت کا ایک سیشن روزانہ کرنا پڑتا ہے۔ برطانیہ میں یہ گیم جون میں ریلیز کیا جارہا ہے۔
اس گیم کا بنیادی مقصد دماغ کی تربیت اور اس کا فعال استعمال ہے۔ اس میں ریاضی کے چھوٹے موٹے سوالات، تصاویر بنانا، با آواز بلند ادب پڑھنا وغیرہ شامل ہیں۔
گیم کھیلنے والے کو اس کی کارکردگی کی بنیاد پر اس کے دماغ کی درست عمر بتائی جاتی ہے۔ نتائج کے بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے دماغ کی عمر گھٹتی جاتی ہے۔
ڈاکٹر کواہشما برین ٹریننگ گیم کی تقریباً دو ملین کاپیاں فروخت بھی ہوچکی ہیں۔ اس گیم کی کامیابی کا راز محض اس کی مقبولیت یا تشہیر کا طریقہ کار نہیں ہے بلکہ ماہرین اسے دماغی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا ایک آلہ کار قرار دے رہے ہیں۔
اس سے قبل نائنٹنڈو سیریز کے فکشن گیمز اس قدر مقبولیت حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
ڈاکٹر کواہشما جاپان کی ٹوہوکو یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے گریجویٹ ہیں اور دماغ سے متعلق تحقیق کرنے والے ملک کے بڑے ناموں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
دماغی تربیت کے موضوع پر وہ دو کتابیں بھی لکھ چکے ہیں جو انتہائی مقبول ثابت ہوئی ہیں۔