Wednesday, 12 April, 2006, 07:48 GMT 12:48 PST
اگرچہ امریکی خلا بازوں نے پہلی مرتبہ چاند پر قدم رکھا، چاند گاڑی چلائی اور وہاں گولف بھی کھیلا لیکن یورپی ماہرین چاند پر پھول اگانے کا ارادہ کرکے اس دوڑ میں امریکہ کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش میں ہیں۔
تو کیا ایسا ممکن ہوسکے گا؟ کیا چاند پر بھی بہار آسکے گی؟ ’انسان کے لیئے ایک چھوٹا بیج، مگر انسانیت کے لیئے مضبوط شاخ۔۔۔‘
درحقیقت یورپی خلائی ادارے ’اِسا‘ یعنی یورپین سپیس ایجنسی کے برنارڈ فوئنگ کا خیال ہے کہ چاند پر اگایا جانے والا پھول ممکنہ طور پر ’ٹیولپ‘ ہوگا جوکہ خاص یورپ کی پہچان ہے۔
برنارڈ کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹیولپ کو اُگنے کے لیئے زمین سے غذائیت کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کی نشونما کے لیئے ضروری اجزاء اس کے بیج یا ’بلب‘ کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں اور یہ بہت مضبوط ہوتا ہے اس لیئے ایسا کرنا شاید ممکن ہو سکے۔
![]() | |
| شمسی توانائی سے چلنے والا مجوزہ روبوٹ |
یہ تجربہ کامیاب ہو یا نہ ہو، فی الوقت تو ایمسٹرڈیم کے ٹیولپس کا چاند پر اگانا ایک خیال ہی ہے۔
’اِسا‘ کے منصوبوں میں چاند پر شمسی توانائی سے چلنے والا روبوٹ بھیجنا بھی سرفہرست ہے۔ ڈاکٹر برنارڈ کا کہنا ہے کہ دس برس پہلے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ ادارے کے پاس فنڈز کی کمی تھی اور چاند کی آب و ہوا کے بارے میں بھی زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ ’لیکن آج ایسا کرنا ممکن ہے کیونکہ ہم چاند کے بارے میں بہت کچھ جان گئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چاند کے قطبین پر چند ایسے مقامات ہیں جہاں ہمیشہ سورج کی روشنی رہتی ہے۔ ’ہم اپنا روبوٹ ایسے مقام پر اتار سکتے ہیں‘۔
اگر یہ تجربات کامیاب رہے تو چاند کے بارے میں ایسی معلومات حاصل ہوسکیں گی جو اب سے پہلے سامنے نہیں آئی تھیں۔