Tuesday, 14 March, 2006, 15:32 GMT 20:32 PST
گوگل کی جانب سے امریکی حکومت کو صارفین سے متعلق معلومات کی فراہمی سے انکار کے بعد اب یہ معاملہ اب منگل کو عدالت میں دوبارہ اٹھایا جا رہا ہے۔
امریکہ کا محکمۂ قانون چاہتا ہے کہ گوگل ایک ہفتے کے دوران کی جانے والی ’سرچ‘ کے ریکارڈ اسے فراہم کرے کیونکہ اس سے اسے انٹر نیٹ کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔ تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ ان معلومات کی فراہمی سے اس کے کاروبار پر برا اثر پڑے گا اور اس کے صارفین کی پرائیویسی متاثر ہو گی۔
امریکی محکمۂ قانون نے ایسی ہی درخواستیں مائیکرو سافٹ، یاہو اور اے او ایل سے بھی کی تھیں۔
اس مقدمے بنیادی نکتہ انٹرنیٹ کمپنیوں کے پاس موجود صارفین کی ذاتی معومات کا عام کیا جانا ہے۔ امریکی حکومت سنہ 1998 کے چائلڈ آن لائن پروٹیکشن ایکٹ کا دفاع کرنا چاہتی ہے جس پر سپریم کورٹ نے اس کے نفاذ پر اٹھنے والے سوالات کے بعد پابندی لگا دی تھی۔
اس قانون کے تحت ’سرچ انجن‘ کمپنیوں سے معلومات حاصل کی جانی تھیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ انٹرنیٹ پر فحش مواد ڈھونڈنا کتنا آسان ہے۔ اگر حکومت یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی تو متعدد ویب سائٹوں کو ریگولیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہوں نے مطلوبہ معلومات ’انٹرنیٹ آرکائیو‘ ویب سائٹ سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر انہیں اس سے زیادہ مفید معلومات نہیں مل سکیں۔
گوگل کے انکار کی تین بنیادی وجوہات ہیں اولاً گوگل کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کا کام کرنا نہیں چاہتا دوسرے یہ کہ وہ اپنی مصنوعات کا بچاؤ کرنا چاہتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گوگل اپنے صارفین کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ وہ ان کی پرائیویسی کے تحفط میں سنجیدہ ہے۔
امریکہ کی شہری آزادی کی یونین بھی گوگل کے اس اقدام کی حمایت کر رہی ہے۔