Monday, 27 February, 2006, 14:47 GMT 19:47 PST
ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قبل از وقت یا پری میچور ولادت بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف سائیکاٹری کے ماہرین نے اٹھارہ اور انیس سال کے نوجوانوں پر کی جانے والی تحقیق کا موازنہ نارمل وقت پر پیدا ہونے والے افراد سے کیا۔
پری میچور بچے خاص طور پر لڑکیوں میں عام لڑکیوں کی نسبت ڈپریشن اور دماغی ہیجان کے خطرات زیادہ پائے گئے۔
محقیقین نے ایک سو آٹھ نوجوانوں سے مخلتف سوال پوچھے۔ ان تمام افراد کی پیدائش انیس سو اناسی سے انیس سو اکیاسی کے دوران تینتیسویں ہفتے کی تکمیل سے قبل ہوئی۔
ان سے حاصل نتائج کا تقابلی موازنہ ان 67 دوسرے افراد سے کیا گیا جو ان کے ہم عمر تھے لیکن ان کی پیدائش مکمل ہوئی تھی۔
سوال جواب میں شامل ہر شخص کو ایک سوال نامہ بھرنے کے لیے کہا گیا۔ یہ سوالنامہ کیا آپ کا مزاج بدلتا رہتا ہے اور کیا آپ دوسروں کے تعاون سے لطف اندوز ہوتے ہیں؟ ایسے سوالات پر مشتمل تھا۔
اس سوال نامے سے حاصل ہونے والے نتائج بتاتے ہیں کہ پری میچور ولادت کے حامل افراد میں امتیازی خصوصیات کا درجہ یعنی’ایکسٹرا ورژن‘ کم دیکھا گیا جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایسی شخصیتوں میں اعتماد اور دوستانہ رویے کی کمی ہوتی ہے۔
بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر میتھو ایلن نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ جسم کے چھوٹے رہ جانے سے دماغ کو کسی قدر نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔
پری میچور بی بی چیریٹی ’بلس‘ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تحقیق سے حاصل نتائج بڑے دلچسپ ہیں تاہم تفسیات کے حوالے سے قبل از وقت پیدائش کے حامل بچوں کا انتہائی نگہداش میں رہنا ایک اہم موضوع ہے اور اس سلسلے میں کہیں زیادہ توجہ اور تحقیق کی ضرورت ہے۔