http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 23 January, 2006, 18:30 GMT 23:30 PST

پی سی وائرس کے بیس سال

اب سے ٹھیک بیس برس قبل ممکنہ طور پر کسی پاکستانی نے پہلا وائرس تخلیق کیا تھا تاہم اس کا مقصد تخریبی نہیں تھا۔

برین نامی پہلا وائرس انیس سو چھیاسی کے ابتدائی ہفتوں میں سامنے آیا تھا۔ اگرچہ اس پروگرام کو اس وقت خاصی شہرت ملی کیونکہ یہ اپنی طرز کا پہلا پروگرام تھا تاہم یہ زیادہ تعداد میں کمپیوٹرز کو نقصان نہیں پہنچاسکتا تھا کیونکہ یہ صرف فلاپی ڈرائیو کے ذریعے ہی کمپیوٹر میں منتقل کیا جاسکتا تھا۔

دنیا میں پہلی مرتبہ نمودار ہونے کے صرف بیس ہی برس بعد آج مختلف طرز کے قریباً ایک لاکھ پچاس ہزار پی سی وائرس پائے جاتے ہیں۔

برین وائرس کس نے بنایا؟ یہ ایک متنازعہ سوال ہے۔ کہا جاتا ہےیہ ایک پاکستانی کمپنی نے بنایا تھا تاہم اس کا مقصد اپنے سافٹ ویئر کا دفاع اور اس کا غیر قانونی استعمال روکنا تھا۔

اس پہلے وائرس برین کا ’بوٹ سیکٹر’ کا نام بھی دیا گیا ہے جوکہ فلاپی میں اس مقام کی نسبت سے ہے جہاں یہ چھپ جاتاہے۔ اس کے بعد جہاں بھی اس فلاپی کو استعمال کیا جاتا ہے، یہ وائرس خود بخود ہی اس کمپیوٹر میں منتقل ہوکر اسے متاثر کردیتا ہے۔

اگرچہ برین ایک کمپیوٹر پروگرام تھا تاہم یہ کوئی تخریبی پروگرام نہیں تھا۔تخریبی وائرس تخلیق کرنے کا سہرا رچرڈ سکینٹرا کے سر جاتا ہے جنہوں نے ایلک کلونر نامی پروگرام بنایا جس نے ایپل ٹو کمپیوٹرز کونقصان پہنچایا۔

اس تخریبی پروگرام کو وائرس کا نام امریکی سائنسدان فریڈ کوہن نے دیا۔آج وائرس کا پسندیدہ ٹارگٹ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ وائرس پروگرام کے مقاصد بھی بدل چکے ہیں۔ اب یہ وقت گزاری کے لیے تخریبی مشغلہ رکھنے والوں سے لے کر ان مجرمانہ گینگز تک کے ہاتھ کا آلہ کار ہے جو پیسوں کے بڑے بڑے فراڈز میں ملوث ہیں۔

امریکہ میں ایک حالیہ تحقیق کے مطگبق وہاں کے تقریباً چوراسی فیصد کاروبار وائرس کے ذریعے متاثر کیے گئے ہیں یا ایسا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔