http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 28 December, 2005, 05:39 GMT 10:39 PST

یورپ کاگیلیلیو سیٹلائٹ خلاء میں

یورپی یونین نے بدھ کی صبح اب تک کا اپنا سب سے بڑا خلائی پروگرام ’گیلیلیو‘ خلاء میں چھوڑ دیا ہے۔ گیلیلیو ایک خلائی نظام ہے جس کے ذریعے موبائل فون سے لیکر جہازوں کے راستوں کا تعین ہوتا ہے۔

اب تک اس طرح کا خلائی نظام صرف امریکہ کے پاس تھا جسے عرف عام میں جی پی ایس ٹیکنالوجی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جی پی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال آج کل کار کے ڈرائیور بھی کررہے ہیں جو کار کے چلنے کے ساتھ ساتھ راستہ بتاتا رہتا ہے۔

گیلیلیو سیٹلائٹ نیویگیشن سیسٹم تیس سیٹلائٹوں پر مبنی ہوگا جن پر کل چار بلین ڈالر کا خرچ ہوگا۔ اس پروجیکٹ میں بھارت، چین اور دیگر ممالک نے بھی سرمایہ کاری کی ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی نے گیلیلیو نظام کے پہلے سیٹلائٹ کو قازخستان کے شہر بیکانور سے سویوز راکٹ کے ذریعے بدھ کی صبح جی ایم ٹی وقت کے مطابق پانچ بجکر بیس منٹ پر خلاء میں داغا۔

پہلے سیٹلائٹ کا نام ہے جیوو-اے اور یہ گیلیلیو کے نظام کی کامیابی کو ٹیسٹ کرے گا۔ اس کا اہم کام یہ بھی ہوگا کہ گیلیلیو نظام کی ایٹمی گھڑیوں کی جانچ بھی کرے۔

بدھ کی صبح لانچ کیا جانے والا یہ سیٹلائٹ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت طے پانے والے ریڈیو فریکوینسیز کو بھی اپنی گرفت میں لے گا اور آئندہ چھ ماہ کے اندر اس کے سِگنل زمین پر بھیجنا شروع کردے گا۔ سائنسدان امید کررہے ہیں کہ یہ کام چند دنوں میں ہوسکے گا۔

جیوو-اے کو بنانے میں تین سال لگے ہیں اور یہ ایک خلائی جہاز کی طرح ہے۔

یورپ کے لیے یہ ایک اہم مشن اس لیے بھی ہے کیوں کہ اس نے کبھی زمین سے تئیس ہزار کلومیٹر کے آربِٹ میں اس طرح کوئی سیٹلائٹ نہیں بھیجا ہے۔

اس طرح گیلیلیو نیویگیشن نظام میں کل تیس سیٹلائٹ چھوڑے جائیں گے جو پوری زمین کا احاطہ کرسکیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ امریکہ کے لیے سیاسی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی اب تک صرف اس کے پاس ہی تھی۔