Sunday, 11 December, 2005, 03:24 GMT 08:24 PST
امریکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی شرح کم کرنے کے لیے طویل المعیاد مذاکرات میں اس شرط پر آمادہ ہو گیا ہے کہ وہ ان مذکرات کے نتیجے میں ہونے والے فیصلیوں پر عمل کا پابند نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ امریکہ نے مونٹریال میں ہونے والی کانفرنس میں شریک ڈیڑھ سو ملکوں کے دوسرے اہم فیصلوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
کانفرنس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ماحولیات کے اہم معاہدے کیوٹو کے اہداف کو دو ہزار بارہ سے آگے بڑھایا جا سکے
طویل معیاد مذاکرات میں امریکہ کی شمولیت کو اس لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے کہ ماضی میں اس نے کیوٹو پروٹوکول میں شامل ہونے سے قطعاً انکار کر دیا تھا۔
کانفرنس میں امریکہ کے نمائندے ہارلینڈ واٹسن نے امریکہ کے اس فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ ان کا ملک ان مذاکرات میں اس لیے شامل ہونے پر راضی ہوا ہے کہ اس طرح اسے اپنا موقف ظاہر کرنے کا پلیٹ فارم ملے گا اور ترقی پذیر ممالک کو بھی یہ پلیٹ فارم حاصل ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت مفید بحث ثابت ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ نے یہ فیصلہ اس کانفرنس کی دستاویز میں ان تبدیلیوں کے بعد کیا ہے جو انتہائی مناسب تھیں۔
![]() | |
| سابق امریکی صدر بل کلٹن کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ موسموں میں آنے والی تبدیلیاں ایک حقیقی اور بڑھتا ہوا خطرہ ہیں اور اس کی وجہ خود انسان کی اپنی سرگرمیاں ہیں |
ان کا کہنا تھا کہ ’ان مذاکرات اور کیوٹو معاہدے کے تحت ترقی پذیر اور ترقی یافتہ تمام ممالک کو شامل ہونا ہوگا۔ یہ فیصلے کانفرنس میں ہوئے ہیں لیکن بش انتظامیہ کا اسرار تھا کہ وہ ان مذاکرات کے پابند نہیں ہوگی اور اسے بڑی مشکل سے رضاکارانہ حیثیت پر آمادہ کیا گیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ باقی دنیا سے کتنے کٹے ہوئے ہیں اور عالمی حدت کے مسلے کو حل کرنے میں کتنے غیر سنجیدہ ہیں‘۔
لیکن امریکہ کی اس مشروط شمولیت کے باوجود مونٹریال کی اس کانفرنس کو ماحولیاتی لحاظ سے بہت کامیاب قرار دیا گیا ہے۔
عالمی حدت پر مذاکرات میں چین اور بھارت بھی شامل ہونگے جو کہ ترقی پذیر ممالک ہیں لیکن جن کی معیشت انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔