http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 06 December, 2005, 21:11 GMT 02:11 PST

نئے جانور کی دریافت

انڈونیشیا میں بورنیو کے گھنے جنگلات میں عالمی ماحولیاتی ادارے نے ایک نیا جانور دریافت کیا ہےجو بظاہر ممالیہ کی ایک نئی قسم ہے۔ سائنسی اصطلاح میں (mammal) یعنی ممالیہ ان جانوروں کو کہتے ہیں جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں۔

ماحولیات کے عالمی ادارے ’ورلڈ وائڈ فنڈ‘ نے اس جانور کی دو تصاویر حاصل کی ہیں۔ یہ ایک پالتو بلی سے پڑا ہے، اس کا رنگ گہرا سرخ ہے اور اس کی لمبی اور مضبوط دم ہے۔

ادارے کے مطابق مقامی لوگوں نے اس جانور کو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا جانور ہے۔

اس ادارے کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے جنگلات کو بچانے کی اشد ضرورت ہے جو درختوں کی کٹائی اور پام آئل کی تجارت سے تباہ ہو رہے ہیں۔

یہ نئی مخلوق جو گوشت خور لگتی ہے ’کیان مینٹراگ نیشنل پارک‘ میں پائی گئی ہے جو انڈونیشیا میں واقع ہے۔

اس جانور کو دریافت کرنے والی ٹیم جس کے سربراہ سٹیفن ولفراٹ ہیں اس جانور پر اپنی تفصیلی رپورٹ شائع کرے گی۔

اس ادارے کے برطانوی سربراہ کالم رنکنی نے کہا کہ ’آپ کو نئے جانور بہت کم ملتے ہیں۔ ایسا کرنا یقیناً غیر معمولی کام ہے‘۔

انہوں نے بی بی سی ویب سائٹ کو بتایا کہ اس جانور کی مزید حرکات کے جائزے اور تصاویر کے لیے خفیہ کیمرے اور آلات جنگل میں نصب کر دیے گئے ہیں۔

ان تصاویر کی ہلکی سی مشابہت لیمر کے ساتھ ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بورینو کے جنگلات میں لیمر یقیناً موجود نہیں ہیں اور یہ صرف مڈغاسکر کے جزیروں میں پائے جاتے ہیں۔

اس کی دم دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت مضبوط ہے اور درختوں کے اوپر بھی چڑھ جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے پہلے یہ نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آبادی اور سڑکوں کے بڑھنے اور جنگلات کے رقبے میں کمی کی وجہ سے اب ان جنگلات کے وسط میں جانا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔

اس مسئلے پر یہ ادارہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ حکومت کو ان الزامات کی صحت سے انکار ہے۔

سراوک کے وزیر اعلٰی حاجی عبدالطیب محمد کا کہنا ہے کہ پام آئل کے ذخیرے ان علاقوں میں لگائے گئے ہیں جو ثانوی جنگلات کی حیثیت رکھتے تھے اور انہیں بہت پہلے کاشتکاری کے لیے صاف کیا گیا تھا۔

ماحولیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جنگلات کی تباہی سے ایسی مخلوقات دنیا کو پتہ چلنے سے پہلے ہی ختم ہو سکتی ہیں۔ یہ تنظیم اس جانور کو زندہ پکڑنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ اس پر مکمل تحقیق کی جا سکے۔