http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 26 November, 2005, 13:54 GMT 18:54 PST

اٹھارہ کروڑ میل دور سیارے کا ٹکڑا

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جاپان زمین سے اٹھارہ کروڑ میل کی دوری پر سورج کے گرد گھومنے والے سیاروں میں سے ایک سیارے کی سطح کا نمونہ حاصل کر کے خلائی تحقیق میں اس نوع کی کامیابی حاصل کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

جاپان کے ہیابوسا نامی اس مشن نے اتوکاوا نامی سیارے پر ایک گولہ داغا اور اور سیارے کا نمونہ حاصل کرنے کے لیے سطح کو چھوا بھی۔ ہیابوسا جاپانی لفظ ہے اور اس کے معنی شاہین کے ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کو یقین ہے کہ مشن نمونے حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کی تصدیق مشن کی واپسی پر ہی کی جا سکے گی۔ مشن دو ہزار سات میں زمین پر واپس آئے گا۔

خلائی تحقیق کے لیے جاپان کے ادارے jaxa جکسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہیابوسا نے سورج کے گرد گھومنے والے سیاروں میں سے ایک کی سطح کو کچھ دیر کے لیے چھوا بھی۔

جکسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جاپانی مشن نے جس سیارے کو چھوا ہے وہ زمین سے اٹھارہ کروڑ میل کی دوری پر ہے اور اس نمونے کے حصول سے نظامِ شمسی کے بارے میں ایک نیی پیش رفت ہو سکے گی۔

اس سے پہلے چاند کی سطح کے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں اور ان کے تجزیے بھی کیے گئے۔

ترجمان کے مطابق مشن نے سیارے کی سطح پر ایک دھاتی گولہ داغا تاکہ اس کے نتیجے میں اکھڑنے والے کچھ ٹکڑے اکٹھے کر سکے۔

جکسا کے کیوتاکا ایشیرو کا کہنا ہے کہ ’نمونے جمع کرنے کا کام بہت عمدگی سے مکمل ہوا‘۔
نمونے جمع کرنے کا کام بہت عمدگی سے مکمل ہوا

اس سے پہلے جکسا کے ایک ترجمان نے گزشتہ سنیچر کو بتایا تھا کہ مشن کو کچھ دشواریوں کا سامنا ہے اس سے پہلے مشن سیارے پر ایک روبوٹ کو اتارنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھاآ

جاپان نے اس مشن کا آغاز مئی دو ہزار تین میں کیا تھا لیکن اس کی روانگی اسی سال دسمبر تک ممکن ہو سکی تھی۔