http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 23 October, 2005, 10:46 GMT 15:46 PST

چینیوں کے لیے چاند پر زمین

چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ چینی عوام اب چاند پر جگہ خرید سکتے ہیں۔

چینی باشندوں کی خلائی مشن اور چاند کے سفر میں دلچسپی کو دیکھتے ہوئے چاند پر زمین کی فروخت کے لیے امریکی کمپنی ’لُونر ایمبیسی‘ نے بیجنگ میں اپنا دفتر قائم کر لیا ہے۔

چاند پر فروخت کی جانے والی جگہ کی قیمت سینتیس ڈالر فی ایکڑ ہے اور خریداروں کو اس جگہ کی ملکیت کا ایک خصوصی سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا جائے گا۔

’لونر ایمبیسی‘ نامی کمپنی پہلے ہی ہزاروں افراد کو چاند پر جگہ فروخت کر چکی ہے تاہم کسی بھی حکومت نے اس قسم کی فروخت کو قانونی قرار نہیں دیا ہے۔

’لونر ایمبیسی‘ کے ترجمان نے چینی اخبار چائنا ڈیلی کو بتایا کہ چینی خریداروں کے لیے برائے فروخت حصہ بیس سے چوبیس ڈگری شمالی عرض بلد اور تیس سے چونتیس ڈگری مغربی طول بلد کے درمیان واقع ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس رقم کے عوض خریدار کو چاند کی سطح سے تین کلومیٹر نیچے تک موجود معدنی وسائل استعمال کرنے کی بھی اجازت ہو گی۔

لونر ایمبیسی نامی کمپنی1980 میں امریکی سرمایہ دار ڈینس ہوپ نے قائم کی تھی۔ مسٹر ہوپ کا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ کے 1967 کے خلائی علاقے کے معاہدے میں ایک سقم کی وجہ سے ان کی کمپنی کی جانب سے کی جانے والی خرید وفروخت جائز ہے۔

اس معاہدے کے تحت زمین سے باہر کسی بھی جگہ پر کوئی حکومت اپنا حق نہیں جتا سکتی لیکن اس معاہدے میں کسی فرد یا کمپنی کی ملکیت پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔

تاہم اقوامِ متحدہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ’لونر ایمبیسی‘ کا چاند پر دعوٰی بلا جواز ہے۔

ڈینس ہوپ نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’ میرے پاس پینتیس لاکھ خریدار ہیں جن میں جمی کارٹر اور رونلڈ ریگن جیسے امریکی صدور سمیت متعدد فلمی ستارے بھی شامل ہیں‘۔

چین وہ آٹھواں ملک ہے جہاں ’لونر ایمبیسی‘ کا دفتر کھولا گیا ہے۔ چائنا ڈیلی کے مطابق اس سے قبل اس کمپنی کے دفاتر امریکہ، جرمنی، برطانیہ، آئر لینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان میں قائم ہیں۔