Sunday, 02 October, 2005, 17:55 GMT 22:55 PST
محقیقین نےگوریلوں کو جنگل میں پہلی بار مختلف کام کرنے کے لیے سادہ اوزار استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
سائنسدانوں نے کونگو کے جنگل میں گوریلوں کا مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ گدلے پانی کی تہہ معلوم کرنے اور دلدلی علاقوں کو عبور کرنے کے لیے چھڑی کا استعمال کرتے ہیں۔
چمپانزی اور ارونگ اوتان نامی بندر بھی اوزار استعمال کرتے ہیں جسے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اوزاروں کا استعمال ارتقاء کے عمل میں بن مانس سے انسان بننے کے مرحلے سے پہلے سے جاری ہے۔
گوریلوں کی کچھ نسلوں کےختم ہونے کا خطرہ ہے اور ان میں سے کچھ کی تعداد سینکڑوں میں رہ گئی ہے۔
جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قائم سوسائٹی کے تھامس بریور نے بتایا کہ’ہم اس جنگل میں دس سال سے گوریلوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ہم نے دو واقعات
میں انہیں کو ادھر ادھر پڑی چیزوں کو اوزار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے‘۔
تھامس بریور جمہوریہ ریپبلک آف کانگو کے نااوبالی نڈوکی نیشنل پارک میں تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ہیں۔
’پہلے واقعے میں ہم نے ایک مادہ کو پانی سے بھرے تالاب کو عبور کرتے ہوئے دیکھا۔ اس نے تالاب عبور کرنے کے لیے ٹوڑ کر بنائی گئی چھڑی کا استعمال کیا اور پانی کی گہرائی معلوم کی اور تالاب عبور کرتے ہوئے اس کا سہارا لیا‘۔
’دوسرے واقعے میں ہم نے ایک اور مادہ گوریلا کو چھڑی اٹھاتے ہوئے دیکھا اور ا کی مدد سے دلدل میں جھک کر کھانے پینے کی چیزیں تلاش کرتے اور اس کے بعد اس نے اس کے سہارے دلدلی علاقے کو عبور کیا‘۔
اس مشاہدے کے دوران جو سب سے حیران کن بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ ان گوریلوں نے چھڑی کا استعمال صرف کھانے کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے
کیا بلکہ اسے اپنے جسم کو سہارا دینے کے لیے بھی استعمال کیا۔
چمپانزی کھانے کی تلاش کے لیے پتھر کے اوزار استعمال کرتے ہیں جبکہ بونوبوس مائع چیزوں کو ڈنڈی کی مدد سے چوستے ہیں۔
اورنگ اوتان (ایشیائی بندر) درختوں کی شاخوں کو کھانے پینے کی چیزوں کی تلاش اور پتوں کی مدد سے آوازوں کو تبدیل بھی کرتے ہیں۔