Saturday, 03 September, 2005, 15:25 GMT 20:25 PST
ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرم خطوں میں دلدلی علاقوں کی تباہی کی وجہ سے عالمی حدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں جنگلات کو صاف کرنے کے ارادے سے دلدلی علاقوں کو آگ لگائی جار ہی ہے۔ خشک سالی میں دلدلی علاقوں میں لگی آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل سکتا ہے۔
برطانیہ کی لیسٹر یونیورسٹی کی ڈاکٹر سوسن پیج کا کہنا ہے کہ آگ لگانے کے عمل سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار شامل ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی اکیس فیصددلدلی زمین پر کاربن کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دلدلی علاقوں کی اہمیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر پیج نے بتایا کہ دوہزار چالیس تک دلدلی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ انیس سو ستاون میں دلدلی علاقوں کے جلنے سے فضا میں دو اعشاریہ چھ سات بلین ٹن گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوا۔ جو ایک سال تک جلنے والے ایندھن کے چالیس فیصد حصے کے برابر ہے۔
خط استواء پر موجود دلدلی علاقے جو جنوب مشرقی ایشیا کےمعروف جزیروں پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان میں بورنیو، سماٹرا اور پاپوا شامل ہیں۔
دلدل زیادہ تر نشیبی علاقوں میں پائی جاتی ہے جودس فٹ تک گہری ہو سکتی ہے اور اس میں ساٹھ فیصد کاربن عناصر پائے جاتے ہیں۔
دلدلی علاقوں کے خاتمے کے محرکات میں ٹمبر، پام کے جنگلات کی شجر کاری، چاولوں کی کاشت کاری، چھوٹے پیمانے پر کھیتی باڑی اور رہائش کے لیے زمین کے ان خطوں کا استعمال کیا جانا ہے۔ اس کے علاوہ جنگلات کے حوالے سے خراب منصوبہ بندی بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
انڈونیشیا کے علاقے بورنیو میں ایک ملین ایکٹر پر بکھرے دلدلی علاقے کو چاولوں کی کاشت کی غرض سے صاف کیا گیا۔
دلدلی علاقوں کی تباہی |
انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں اگرچہ آگ لگنے کے عمل پر کسی حد تک قابو پا لیا گیا ہے مگرصاف اور خشک دلدلی علاقوں میں خشک سالی کے دوران آگ آسانی سے لگ جاتی ہے۔
ڈاکٹر بیچ نے بتایا کہ اگر دلدلی علاقوں کے تحفظ کے سلسلے میں کوئی فوری قدم نہیں اٹھایا گیا تو عالمی حدت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو گا۔