http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 21 August, 2005, 04:40 GMT 09:40 PST

آئن سٹائن کی تحریر دریافت

ہالینڈ کی ایک یونیورسٹی میں ایک طالب علم کو تحقیق کے دوران البرٹ آئن سٹائن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک تحریر ملی ہے۔

روڈی بوئنک نامی اس طالب علم کو البرٹ آئن سٹائن کی یہ تحریران کے ایک دوست کی دستاویزات میں سے ملی ہے۔

اس یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے کہا کہ یہ خوشگوار حیرت کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریر پر آپ آئن سٹائن کی انگلیوں کے نشانات بھی دیکھ سکتے ہیں۔

اس تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی کے یہ عظیم سائنسدان ایک نظریہ پر کام کر رہے تھے۔ سولہ صفحات پر مشتمل اس تحریر پر انیس سو چوبیس کی تاریخ درج ہے۔

اس تحریر میں انہوں نے انتہائی کم درجہ حرارت پرگیسوں کے ایٹم کے رویے پر بحث کی ہے۔ یہ نظریہ فزکس کے ہندوستانی سائنسدان ستندر ناتھ بوس کے ساتھ مشترکہ طور پر دریافت کیا گیا تھا۔

اس کے مطابق انتہائی کم درج حرارت پر گیسوں کے ایٹم کی توانائی کم ہوجاتی ہے حتی کہ ان میں تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

آئن سٹائن کے ہالینڈ کی اس یونیورسٹی کے ساتھ قریبی روابط تھے اور وہ اکثر مہمان لیکچرر کے طور پر یہاں تشریف لاتے تھے۔