Wednesday, 10 August, 2005, 16:12 GMT 21:12 PST
امریکی خلائی ادارے ناسا نےکچھ مشکلات کے باعث مریخ پر نئے آربیٹر کی روانگی ایک دن کے لیے ملتوی کردی ہے۔
اس نئےآربیٹر کومارس ریکوننینس آربیٹر (ایم آر او) کا نام دیا گیا ہے۔ مریخ کا مشاہدہ کرنے والایہ آربیٹراب جمعرات کوروانہ ہو گا۔
اس مشن کے دوران مریخ پر پانی کی موجودگی کی تاریخ کے بارے میں حقائق جمع کیے جائیں گےاور مریخ کی سطح پر مستقبل میں جانےوالے خلائی مشنوں کے لیے ہموار سطحوں کی تلاش بھی شامل ہے۔
اس کی روانگی میں تاخیرکی ایک وجہ ناسا میں خلائی مشن ڈسکوری کی کامیاب واپسی کا جشن بھی ہے۔
مریخ کےاس نئے آربیٹر کی تیاری میں پانچ سو ملین ڈالر کے اخراجات آئے ہیں۔
اور یہ دوہزار چھ تک مریخ کے مدار میں داخل ہوجائےگا۔ اس کا مریخی سفر پچیس ماہ پر مشتمل ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ آربیٹر کیپ کیناویرل سپیس سینٹر سے مقامی وقت کے مطابق سات بجے سے ساڑھے نو کے درمیان پرواز کا آغازکرے گا۔
اس آربیٹر پرانتہائی حساس آلات نصب کیے گئے ہیں اور اب تک مریخ پر بھیجا جانے والا یہ سب سے بڑا آربیٹر ہے۔
ناسا میں مریخ کےاس تلاش کےمشن کے ڈائریکٹر ڈوگلاس میک کیواسٹن کا کہنا ہے کہ آربیٹر کی روانگی مریخ پر ہماری تلاش کے مشن کا اگلا مرحلہ ہے۔
یہ خلائی جہاز مریخ کی ساخت اور اس کی بناوٹ کا مشاہدہ کرے گا اور مستقبل میں بھیجے جانے والی خلائی مشنوں کے لیےطاقت ور مواصلاتی نشریات کےذریعے کےطور پرکام بھی کرے گا۔
اس پر نصب سائنسی آلات جیسے کیمرے اور سپیکٹرومیٹر مریخ کی سطح پر
ان تمام عوامل کا مشاہدہ کریں گےجو پانی کی موجودگی کے حوالےسے اہم ہیں۔
اس کے علاوہ ریڈار سراؤنڈر مریخ کی سطح کے نیچے پانی کی تلاش کا کام سرانجام دےگا۔
ایم آر او مریخ کی سطح پر پہلے سےموجود دوامریکی آربیٹروں جن کے نام مارس گلوبل سروائور اور مارس اوڈیسی ہیں سے جاملےگا۔
اس صدی میں ناسا مریخ پر دو مزید خلائی مشن بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔