Tuesday, 02 August, 2005, 01:00 GMT 06:00 PST
امریکی خلائی شٹل ڈسکوری کے ایک خلا باز نے شٹل کی سطح سے وہ حصے کامیابی سے ہٹا دیے ہیں جو اس کے کرہ ارض کی فضا میں واپسی پر ہدت پیدا کرنا کا باعث بن سکتا ہے۔
خلا باز سٹیفن رابنسن کو مکینکی ہاتھ کے ذریعے شٹل کے نچلے حصے اتارا گیا تاکہ وہ اس انتہائی نازک اور مشکل مرمت کے کام کو پورا کر سکیں۔
سٹیفن نےشٹل کے نچلے حصے تک پہنچ کر اسکی گرمی سے محفوظ کرنے والی ٹائلز کے درمیان پھنسی سرامک کی پٹیاں نکال لیں۔
ناسا کے ماہرین کو تشویش تھی کہ زمین کی فضاء میں داخل ہونے پر کہیں یہ پٹیاں شٹل کے کچھ حصوں کو ضرورت سے زیادہ گرم نہ کردیں۔
شٹل کے عملے نے کہا ہے کہ انہیں شروع میں اس مرمت کے حوالے سے کچھ تشویش تھی۔
ناسا نے کہا ہے کہ شٹل کی مرمت کا یہ کام گرینچ کے وقت کے مطابق آٹھ بج کر چودہ منٹ پر شروع کیا گیا تھا۔
امریکی خلائی ادارے نے ڈسکوری شٹل کی چونچ کے قریب گرمی سے محفوظ رکھنے والی ٹائیلز کے درمیان سرامک کی ان پٹیوں کا پتہ چلایا ہے جو 3 سینٹی میٹر سے چھوٹی تھیں۔
![]() شٹل کی کس طرح سے مرمت کی جا سکتی ہے |
سرامک کا یہ کپڑا جو ٹائیلز کو اپنی جگہ جمانے کے لیے استعمال ہوتا ہے شائد شٹل کے زمین سے چھوڑے جانے کے وقت ارتعاش کی وجہ سے اپنی جگہ چھوڑ گیا ہو۔
رابنسن کو مرمت کے لیے ہدایات مشن کنٹرول سے ایک بارہ صفحوں کی ای۔میل میں ملی ہیں۔
مسٹر رابنسن کا کہنا ہے کہ ’یہ کام بہت آسان ہے لیکن مجھے بہت احتیاط برتنی ہوگی‘۔
کسی خلا باز نے خلا میں چہل قدمی کے دوران اس نوعیت کا کام پہلے کبھی نہیں کیا ہے۔ مسٹر رابنسن کو خلائی سٹیشن کا ایک ’روبوٹِک آرم‘ مرمت کی جگہ تک پہنچائے گا۔
یاد رہے کہ دو سال پہلے خلائی شٹل کولمبیا زمین کی فضا میں داخل ہونے کے بعد تباہ ہو گئی تھی اور اس میں سوار تمام سات خلا باز ہلاک ہو گئے تھے۔