Thursday, 09 June, 2005, 07:50 GMT 12:50 PST
سائنس دانوں نے کینسر کی ایک نئی وجہ کی سمت اشارہ کیا ہے جو ایک جینیاتی مادے کے ننھے ننھے ٹکڑے ہیں اور جنہیں مائیکرو آر این اے کہا جاتا ہے۔
جائزے کے مطابق اس مادے کی نشاندہی سے ایسے کینسر کا پتہ لگانے میں بھی مدد مل سکتی ہے جس کی تشخیص بہت مشکل ہوتی ہے۔
نیو یارک کی کولڈ سپرنگ ہاربر لیبارٹری کے تجربے کے مطابق شدید قسم کے خون کے سرطان کا تعلق مائیکرو آر این اے کی مقدار میں زیادتی سے ہوتا ہے۔
ایک دوسری تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مختلف قسم کے سرطان کے بارے میں مائیکرو آر این اے کی سرگرمیوں سے نشاندہی کی جاسکتی ہے۔
خیال ہے کہ یہ تحقیق سرطان کی تشخیص اور اس کے علاج کے طریقےکی ایک نئی سمت لیجا سکتی ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے نیشنل ہیومن جنوم کے ڈاکٹر پال میلٹزر کے مطابق
ایسا لگتا ہے کہ مائیکرو آر این اے جسمانی نشو نما کے بڑے حصے پر اثر رکھتے ہیں ۔لیکن وہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں جس سے یہ پتہ لگانا بہت مشکل ہے کہ ان کا صحیح کام کیا ہے۔
اس تحقیق میں تقریباً 200 مائیکرو آر این اے کی شناخت کی گئی ہے لیکن صرف چند کے بارے میں یہ معلوم ہو سکا ہے کہ وہ کس طرح کام کرتے ہیں۔
برطانیہ کے کینسر ریسرچ سینٹر کے ہینری سکو کرافٹ کا کہنا ہے کہ اگر مائیکرو آر این اے روز مرہ کے کام کاج میں اتنے ہی اہم ہیں جتنا کہ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے تو ان پر مزید تحقیق کینسر کے علاج میں اہم رول ادا کر سکتی ہے۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ سرطان میں مائیکرو آر این اے کا کیا رول ہے اس بارے میں یہ کوئی حتمی جواب نہیں ہے
تاہم اسے ایک کڑی کہا جا سکتا ہے جس سے ہم تجربے کے ذریعےیہ بتا سکتے ہیں کہ مائیکرو آر این اے سرطان کا سبب ہو سکتا ہے۔
ایک علیحدہ تحقیق میں ڈانا فاربر کینسر انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر ٹوڈ گولب کی ٹیم نے ایک ایسی تکنیک تیار کی ہے جس سے مائیکرو آر این اے کا پہلے سے موثر انداز میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن یہ سرطان اور اس کے علاج کی تحقیق کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے۔