http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 20 May, 2005, 12:15 GMT 17:15 PST

سٹم سیلز کی تحقیق کا معرکہ

جنوبی کوریا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلی بار ایسے سٹم سیلز تیار کیے ہیں جنہیں کسی بھی انسان کی ضرورت کے عین مطابق نمو دی جا سکتی ہے۔

گیارہ اقسام کے اِن نئے سٹم سیلز کو مریض سے حاصل کردہ جینیاتی مادے کو تولیدی خلیے میں رکھ کر نمو دی گئی ہے۔

اس طریق کار سے حاصل ہونے والے سٹم سیلز مریض کی ضرورت کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ اور یوں ذیابیطس جیسے امراض کا مؤثر علاج ممکن ہے اور اس خطرے کا بھی امکان نہیں ہے کہ مریض کا جسم نیا عضو قبول نہیں کرے گا۔

سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی پیشرفت کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔

دریں اثناء برطانیہ کی نیو کاسل یونیورسٹی کے محققین نے کہا ہے کہ انہوں نے سٹم سیلز سے حاصل شدہ جینیاتی مادے اور تولیدی خلیوں کی مدد سے جنین کا کلون تیار کر لیا ہے۔

نیو کاسل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ٹیم نے گیارہ خواتین سے حاصل کردہ بیضوں سے جینیاتی مادہ علیحدہ کیا اور پھر اس کی جگہ جنین کے سٹم سیلز سے حاصل شدہ ڈی این اے کو داخل کیا۔

اس طرز کی تحقیق کا مقصد کلوننگ سے تیار کیے جانے والے جنین کے سٹم سیلز کو بیماری کے علاج کے لیے استعمال کرنا ہے۔