Wednesday, 20 April, 2005, 14:42 GMT 19:42 PST
انٹارکٹیکا میں لکسمبرگ کے مساوی حجم کا ایک تودہ ایک چٹان سے ٹکرایا ہے جس کے نتیجے میں چٹان کا ایک پانچ کلو میٹر کا ٹکڑا الگ ہو کر سمندر میں چلا گیا ہے۔
بی 15 اے نامی اس ایک سو پندرہ کلو میٹر طویل تودے سے تصادم ڈرائیگالسکی نامی گزرگاہی چٹان سے ہوا، جس کے نتیجے میں ڈرائیگالسکی کا ایک پانچ کلو میٹر حجم کا مخروطی ٹکڑا ٹوٹ کر الگ ہوا اور واپس بحرِ روص میں چلا گیا۔ تاہم اس تصادم سے بی 15 اے کو کوئی نقصان پہنچا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متصادم مخروطی چٹان ڈرائیگالسکی کا مخروطی حصہ اب بھی گزرگاہ میں باہر کی طرف نکلا ہوا ہے اور بی 15 اے کے مزید حصے جب اس گزریں گے تو اس مخروطی حصے کو مزید تصادموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یورپی خلائی ایجنسی کے ارضی جائزہ پلیٹ فارم اینویساٹ نے اس تصادم کی نایاب تصاویر محفوظ کی ہیں۔
بحرِ روص کے موکمرڈو ساؤنڈ نامی حصے میں ڈرائیگالسکی کا مخروطی ٹکڑا ستر کلومیٹر نکلا ہوا ہے اور سائنسدانوں نے اس ہونے والے تصادم ریکارڈ کرنا شروع کیا تھا۔
بی 15 اے کا رقبہ 25 سو مربع کلومیٹر سے زائد ہے اور اس کا ابھی قدرے بڑا حصہ ابھی بی 15 کہلانے والی ڈرائیگالسکی سے گزرے گا اور امکان ہے کہ اس کے نتیجے میں مارچ 2000 میں روص کی برفانی تہوں سے الگ ہونے والی اس مخروطی چٹان کا مزید نقصان اٹھانا پڑے۔
خود ڈرائیگالسکی کا 11 ہزار چھ سو پچپن مربع کلو میٹر یا جمیکا کے مساوی ہے لیکن تصادموں کے نتیجے میں مسلسل چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔